Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ماں (گائے) کے دودھ میں‌ سونا اور خالا کا دودھ گاڑھا ہوتا ہے، وزیر کی انوکھی منطق | زرائع نیوز

ماں (گائے) کے دودھ میں‌ سونا اور خالا کا دودھ گاڑھا ہوتا ہے، وزیر کی انوکھی منطق

نئی دہلی: بھارتی مغربی بنگال کے بی جے پی صدر دلیپ گھوش نے غیر ملکی گائیوں کو خالہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمٰں اُن کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔

مغربی بنگال میں منعقدہ ایک پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’’ہماری بھارتی گائے خصوصی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اُن کے دودھ میں سونا ملا ہے اور اسی وجہ سے اُس کا دودھ سنہرا ہوتا جبکہ غیرملکی گائیوں کے پاس ایسی خصوصیت نہیں بلکہ اُن کا دودھ گاڑھا ہوتا ہے اس لیے وہ ہماری آنٹیاں (خالائیں) ہیں‘‘۔

دلیپ گھوش کا کہنا تھا کہ ’گائے میں ایک خاص خون کی رگ ہوتی ہے جو سورج کی روشنی سے سونے کی پیدوار میں مدد کرتی ہے اور یہ خاص خون کی رگ بھارتی گائے میں موجود ہوتی ہے، ہم گائے کا دودھ پیتے ہیں جس سے ہم صحت مند ہوتے ہیں اور بہت سی بیماریوں سے بھی بچ جاتے ہیں لہٰذا ہمیں بھارتی گائے کی حفاظت کرنی چاہیے اور ان کا خیال رکھنا چاہیے۔‘ اُنہوں نے کہا کہ ’ہم بیرونِ ممالک سے جو گائے لے کر آتے ہیں وہ گائے نہیں ہوتی ہیں بلکہ صرف ایک ’جانور‘ ہوتی ہیں اور اگر ہم ایسی ’آنٹیوں‘ کی پوجا کریں گے تو اِس سے بھارت کو نقصان پہنچے گا۔‘ اُنہوں نے مزید کہا کہ ’ گائے بھارت کی ماں ہے اور ہم گائے کا دودھ پیتے ہوئے ہی زندہ رہتے ہیں لہٰذا اگر کوئی ہماری ماں کے ساتھ بد سلوکی کرے گا تو ہم بھی اُس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کریں گے جس کا وہ حقدار ہوگا ۔‘ اُن کا کہنا تھا کہ ’بھارت کی زمین پر گائے کو مارنا اور اُس کا گوشت فروخت کرنا ایک سنگین جُرم ہے۔