لاہور: جمعیت علمائے اسلام (ف) نے حکومت کے خلاف ایک اور تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ذرائع کے مطابق ملین مارچ اور دھرنوں کے بعد اب مولانا فضل الرحمان بھرپور طاقت کے ساتھ میدان میں آئیں گے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر اپنے بل بوتے پر حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کیا، جس کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں جلسے اور احتجاج کیے جائیں گے، ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کا نظریاتی دھڑا، مسلم لیگ ق جبکہ تحریک انصاف کے 10 سے زائد اراکین بھی مولانا کی حمایت میں باہر نکلیں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے حالیہ دورہ لاہور کے دوران جے یو آئی پنجاب کے ذمہ داران سے مشاورت مکمل کرلی، جلسوں کے شیڈول کو حتمی شکل دینے کے لیے پنجاب کی مجلس عاملہ اور شوری کا اہم اجلاس 16 جنوری کو راولپنڈی میں طلب کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متوقع طور پر احتجاج کا سلسلہ فروری کے پہلے ہفتے سے شروع ہوجائے گا اور تحریک کا پہلا جلسہ لاہور میں ہوگا، حکومت مخالف تحریک میں اس بار دینی مدارس اصلاحات، کشمیر اور ملک کی معاشی صورتحال کو موضوع بنایا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فروری سے قبل اگر ان ہاؤس تبدیلی نہ لائی گئی تو مولانا کے ساتھ ایم کیو ایم، جی ڈے اے سمیت دیگر جماعتیں بھی نظر آئیں گی۔ دوسری جانب ان ہاؤس تبدیلی کی تیاریاں بھی خاموشی سے جاری ہیں اور ایوان میں جلد ہی ایک قرار داد پیش کی جائے گی جس میں وزیراعظم عمران خان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جائے گا۔
