عورت مارچ یا فساد مارچ…. تحریر نازیہ علی

عورت اور مرد گاڑی کے دو ایسے پہیے ہیں جو زندگی کی گاڑی کو خوبصورتی سے چلانے کیلئے ایک دوسرے کی عزت و وقار کا ہمیشہ خیال رکھتے ہیں اور جو ایسا نہیں کر پاتے وہ اپنی انا کو تو تسکین دینے کیلئے خود کو کامیاب کہ سکتے ہیں مگر حقیقت میں وہ رشتے نبھانے اور سمجھنے میں کمزور ہوتے ہیں ہمیشہ کی طرح آج بھی ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے ناسور موجود ہیں جو نہیں چاہتے کہ عورت اور مرد میں توازن برقرار رکھا جائے اور وہ ایک سازش کے تحت نت نئی روایات اپنا کر لوگوں کو بے جا بحث میں مبتلا کرتے ہیں۔

عورتوں کے عالمی دن کی اگر بات کی جائے تو 8 مارچ کو پوری دنیا سمیت پاکستان میں بھی خواتین کا عالمی دن بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے اور اگر میری ذاتی رائے پوچھی جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں بلکہ میرا ماننا تو یہ ہے کہ مرد حضرات کو بھی یہ دن اپنی ماں،بہن ،بیوی یا بیٹی کو کوئی تحفہ دے کر انکے ساتھ پیار و محبت کے ساتھ گزارنا چاہئے اور خواتین کے جائز حقوق کیلئے بولنے والی خواتین کے ساتھ آواز میں آواز ملانا چاہئے۔اسلام سے قبل عورت کی حالت زار نہ قابل بیاں تھی۔

عورت کو محض بچے پیدا کرنے اور خاوند اور بچوں کی خدمت کے قابل ہی سمجھا جاتا تھا۔ عرب معاشرے میں عورتوں کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی تھی۔ گھر میں عورت کے وجود کو مرد اپنی توہین سمجھتا تھا۔ عرب معاشرے میں بچیوں کو زندہ دفن کرنے کا بھی رواج تھا۔ لیکن جب اسلام کا سورج عرب کی سر زمین پر طلوع ہوا تو اس سے عورت کی تاریک زندگی میں بھی روشنی کی بارش ہونے لگی۔اسلام نے عورت کو وہ حقوق دیے جو زمانہ جاہلیت میں تصور بھی نہ ممکن تھا۔ اسلام نے عورت کے مختلف حیثیتوں میں حقوق متعین کیے اور ان کی ادائیگی کو اپنے ماننے والوں پر لازمی قرار دیا۔ ماں کی حیثیت سے اسلام نے جنت کو ماں کے قدموں میں رکھ دیا اور اولاد کو تاکید کی کہ ماں باپ کے سامنے اف تک نہ کہا جائے۔

خاوند پر یہ لازمی قرار دیا کہ وہ اپنی بیوی کے آرام و آسائش کا مکمل خیال رکھے اور اسے گھر کی چار دیواری کے اندر تمام ضروریات زندگی کا سامان مہیا کرے۔ اس کے علاوہ اسلام نے بہن بیٹی خالہ دادی نانی کی حیثیت سے بھی عورت کو حقوق سے نوازا۔ اسلام نے عورت کو حق وراثت عطا فرمایا تاکہ عورت معاشی ضروریات کی تکمیل کے لیے کسی کی دست نگر نہ ہو۔میں جو مسئلہ اب بیان کرنے چاہتی ہوں اس پر سب سے پہلے تو یہ کہونگی کہ حقوق نسواں پر کام کرنے والے ماہرین کو مل بیٹھ کر یہ سوچنا ہو گا اور عورت کے حقوق کے بنیادی سوالوں کا احاطہ کر کے اس کا جواب تلاش کرنا ہو گا۔

کرونا یا کورونا۔۔۔ تحریر نازیہ علی

اسلام نے اگر حقوق دیے لیکن وہ ادا نہیں ہو رہے تو غور کریں خرابی کہاں ہے؟بہت سارے معاشرتی مسائل غربت اور کرپشن کے ساتھ ساتھ یہ دینی تعلیم سے دوری ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے کے نظام تعلیم پر غور کرنا ہو گا۔حقوق فرائض میں احساس ذمہ داری اجاگر کرنے والی تعلیم دیں۔کیا ہم سالوں سے خواتین کا عالمی دن مناتے ہوئے نہیں آرہے ؟ مگر دو سال میں ایسا کیا ہو گیا جو 8 مارچ آنے سے قبل ہی عورت مارچ کے تصور سے عزت دار عورت کانپ جاتی ہے۔اس سال تیسرا عورت مارچ نکالا جائے گا اس سے پہلے ہم جس طرح کے نازیبہ اور بیہودہ نعرے اور باتیں دیکھ اور سن چکے ہیں کیا ہمیں ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ یہ عورت مارچ کے نام پر ملک میں ایک فساد کا انعقاد ہے ایک ایسا فساد جو مرد کو عورت کے اور عورت کو مرد کے خلاف کرے۔

لبرل ہونا کیا ہے؟ کیا کوئی عورت مغربی سوچ رکھ کر اسلام کو رد کر کے پورے خاندان کی عزت روڈ پر رکھ دے یہ لبرل ہونا یے اگر یہ لبرل ہونا ہے تو میں تھوکتی ہوں ایسی منفی سوچ اور ایسی خواتین پر۔مظلوم عورت کل بھی مظلوم تھی آج بھی مظلوم ہے اور مکار عورت کل بھی مکار تھی آج بھی مکار ہے۔میرا جسم میری مرضی کے نعرے کا استعمال فحاشی نہیں تھا مگر گندی سوچ کی حامل خواتین نے اسے گندا بنا دیا۔اگر ہمت ہے تو جا کر کسی کچی آبادی،گاؤں ،دیہات کی اس عورت کو دیکھو جو کنویں سے پانی بھر کر لاتی ہے گھر کا کام کرتی ہے بچوں کی پرورش کرتی ہے مگر پھر بھی حکمران سوچ کے حامل مرد کے ہاتھوں پیٹی جاتی ہے اسکو حق ہے کہنے کا میرا جسم میری مرضی۔اس مظلوم لڑکی سے پوچھو جو اغواء کر لی جاتی ہے اور بازار میں سجا دی جاتی ہے اسکو حق ہے کہنے کا میرا جسم میری مرضی۔ لڑکے کی آرزو میں جس کمزور عورت سے بار بار لڑکی پیدا کروا کر اسی کو قصور وار ٹہرا کر طلاق دی جاتی ہے اسکا حق ہے کہنے کا میرا جسم میری مرضی۔

وہ لڑکی جو تعلیم حاصل کرنے جاتی ہے اور کوئی عاشق وڈیرہ اس کے چہرے پر تیزاب ڈال جاتا ہے اسکو یہ کہنے کا پورا حق ہے میرا جسم میری مرضی ۔وہ معصوم بچی جو نادان ہوتی ہے اور اسکو درندگی کا نشانہ بنا کر اس سے اسکا بچپن چھین لیا جاتا ہے اسکا حق ہے یہ کہنا کہ میرا جسم میری مرضی۔مگر مجھے ذرا کوئی بھی عورت کی حقوق کی بات کرنے والی پڑھی لکھی عورت اس بات کا جواب دے گی کہ وہ عورت مارچ کے نام پر بے حیائی مچانے والی خواتین کا ساتھ دے کر مظلوم یا باہر کام کرنے والی عورت کے حق کی جنگ لڑ رہی ہے یا مظلوم اور نوکری پیشہ عورت کو بدنام کر رہی ہے۔اسلام سے ہی ہمیں حضرت بی بی خدیجہ سلام اللہ علیہا کے تجارت پیشہ ہونے کی مثال ملتی ہے۔

اسی طرح جب آج کے دور میں کوئی بھی عورت گھر کی دہلیز پار کر کے کمانے نکلتی ہے تو وہ اپنے شوہر یا باپ کا سہارا بن کر نکلتی ہے انکی عزتوں کی محافظ بن کر نکلتی ہے یا پھر اپنی اولاد کا پیٹ بھرنے باہر نکلتی ہے۔اسی معاشرے میں جب ایک مرد کام کر کے تھک کر آتا ہے تو تصور کیا جاتا ہے کہ گھر جاتے ہی دسترخوان سجے گا کھانا دیا جائے گا مگر جب عورت وہی سارا دن محنت اور کام کر کے تھکی ہوئی آتی ہے تو سوال ہوتا ہے اتنی دیر کر دی اب جلدی سے کھانا پکاؤ مگر کیا کبھی کسی نے سوچا کہ مرد کی یہ سوچ بنانے والی بھی اسکی ماں یا بہن ہوتی ہے جو ایک بار بھی یہ نہیں کہتی کہ تمھاری بیوی تمھارا ہی ساتھ دینے کیلئے کماتی ہے آرام اسکا بھی حق یے۔بالکل اسی طرح جب کسی بھی شادی شدہ مرد کو عشق کا بھوت چڑھتا ہے تو اسکے پیچھے بھی عورت ہی ہوتی ہے جو کہ بخوبی مرد کو شادی شدہ جاننے کے باوجود اپنے مفادات پورے کرنے کیلئے دوسری عورت کا گھر اجاڑنے پر تیار ہو جاتی ہے۔

صحیح معنوں میں عورت ہی عورت کی اصل دشمن ہے مگر افسوس کے ساتھ کہتی ہوں کہ میرے معاشرے کی وہ باشعور اور پڑھی لکھی خواتین جو عورت کے حقوق کے نام پر عورت کی بدنامی کا سبب بننے والی خواتین کا ساتھ دے رہی ہیں وہ اس بات کو سمجھیں کہ یہ خواتین مغربی ذہن اور یہود و نصاریٰ کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں۔اسلام نے عورت کو جو عزت بخشی اسکی مثال شاید ہی کہیں ملتی ہو اللہ نے دنیا کی خوبصورتی کو مکمل کرنے کیلئے عورت کو تخلیق کیا۔عورت کو ہمت اور طاقت کا ایسا پیکر بنایا کہ نو ماہ بچہ پیٹ میں رکھ کر جینے کی صلاحیت دی اور اسکی پیدائش کی تکلیف کی آزمائش بھی عورت کہ ذمے رکھے کیونکہ اللہ نے مرد کو اس آزمائش کیلئے موزوں نہیں سمجھا۔

پاکستان میں عورت سیاست بے آواز، تحریر نازیہ علی

خدارا ابھی بھی وقت ہے اپنے ملک پاکستان کو جو کہ برائے نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رہ گیا ہے اسکے خلاف ہونے والے ناپاک عزائم کے حامل لوگوں کا ساتھ مت دیجئے۔باحیا عورت اپنے شوہر کو بستر پر سکون دیتی ہے اگر کسی بے حیا کیلئے وہ بستر سجانا یے تو اس کی سوچ اسکو مبارک کیونکہ میری سوچ کے مطابق کسی نا محرم کا بستر سجانے اور حرام رشتہ جوڑ کر خود کو آزاد کہنے سے بہتر شوہر کا ساتھ ہے۔

عورت آزادی مارچ کی بے حیائی کے نعروں ایک نعرہ بچہ دانی ہٹوانا بھی تھا جو کہ انتہائی شرمناک اور غلیظ تھا مگر میرا جواب اس نعرے کو لگانے والیوں کیلئے یہ ہے کہ تم جیسی بدبور دار خواتین اگر بچہ دانی نکلوا ہی دیں تو بہتر ہے تاکہ تم سے نکلی غلاظت تمھاری طرح معاشرے کو مزید غلاظت بھرا اور بدبو دار نہ کر سکے اور میری بد دعا ہے کہ جو عورت ماں کی درجے کی عظمت نہ سمجھے اللہ اسکو ماں بنا کر کبھی اسکے قدموں میں جنت نہ ڈالے۔

عورت آزادی مارچ مناؤ ضرور مناؤ مگر عورت کی اس حیاء کیلئے جسکے ساتھ وہ تعلیم۔حاصل کرنے درس گاہ جاتی ہے جس حیاء کے ساتھ وہ آج کے دور میں درندوں جیسی بے حیاء مردوں کی نظریں برداشت کر کے محنت کرتی ہے عورت کی سچائی یہ ہے کہ وہ مرد کی بے وفائی سہنے کے باوجود اس رشتے کو اپنی اولاد کی خاطر نبھاتی ہے ایسی عورت کی عظمت کو سلام پیش کرو اسکو بدنام مت کرو۔کشمیر ،فلسطین ،شام ،بھارت کی ان مظلوم عورتوں کیلئے آزادی مارچ کرو جو ظلم و جبر کا شکار ہیں۔

دہلی میں وہ مسلمان لڑکیاں جو ریپ کر کے ماری جا رہی ہیں۔عورت ہو تو پھر عورت بنو اپنے شیر مادر کا حق ادا کرو میرے شیر مادر میں سچ ہے حق ہے حیاء ہے اور وہ جذبہ ہے جو آج بھی فرعونیت کی سوچ کے حامل لوگوں کو للکار سکتا ہے۔تمام لبرل آنٹیاں کان کھول کر سن لیں طلاق کے بینرز اٹھا کر کیا تم ہم جنس تصور کو فروغ دینا چاہتی ہو مرد سے نفرت کی احساس کمتری چھوڑو کیونکہ اگر تمھیں تمھارے باپ کا نام نہیں معلوم تو اسکی وجہ تمھاری ماں یے جا کر پوچھو اس سے اور وہ تمام مرد جو عورتوں کو بدنام کرنے والی خواتین مارچ کا سہارا لے کر عزت دار خواتین کو بھی ایک ہی لکڑی سے ہانک کر عورت کی تذلیل کرتے ہیں وہ اس فساد سے باہر آئیں اپنی ماں اور بہنوں کے ساتھ عورت کی عزت اور حقوق کیلئے سچ اور حق کی آواز بلند کریں اور خواتین کے ساتھ مل کر اچھی سوچ سے وابستہ عورت مارچ کا حصہ بنیں۔

کوئی شہید علی رضا عابدی کے بوڑھے باپ کی التجا اور درد سمجھے، تحریر نازیہ علی

مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں اور انکا ساتھ ہی زندگی کی اصل خوبصورتی ہے۔عورتوں کا عالمی دن بالکل منایا جاناچاہئے مگر انکے جائز حقوق کیلئے اور انکی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے۔مگر عورت مارچ کے نام پر فساد منانے والی تمام اسلام اور ملک دشمن سازشوں پر سے اب نقاب اٹھانا ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: