میرا جسم میری مرضی، نعرے پر آنے والے خیالات … تحریر عمیر دبیر

دو سال قبل 8 مارچ کو پاکستان میں منعقد ہونے والے عورت حقوق (آزادی) مارچ میں کچھ ایسے پلے کارڈز دیکھنے کو ملے جن پر سارا سال تبصرہ چلتا رہا اور ہر کسی نے اپنی سوچ اور تربیت کے حساب سے اُس پر ماہرانہ رائے یا تجزیہ پیش کیا۔

اپنا کھانا خود گرم کرو، مجھے نہیں معلوم تمھارا موزہ کہاں ہے، لو بیٹھ گئی صحیح سے نعرے بھی مردوں کی نظر میں آئے مگر ایک نعرہ ایسا تھا کہ جس نے ضرورت سے زیادہ لوگوں کی توجہ حاصل کی، اس کی اصل وجہ کو اگر خوف کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ عام طور پر اس نعرے پر تبصرہ کرنے والے مرد حضرات کے دماغوں میں جنسی تسکین کا خیال آتا ہے، گویا وہ اس نعرے کا مطالب لیتے ہیں کہ عورت یہ مطالبہ کررہی ہے وہ جہاں اور جیسے دل چاہے گی اپنے جسم کو استعمال کرے گی۔

اس حوالے سے میری اب تک سیکڑوں مردوں سے بات ہوئی، جس کا خلاصہ اور اُن کا نقطہ نظر بیان کر کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ اختلاف کو گالی یا الزامات کے بجائے دلیل سے ختم کیا جائے۔

ان دنوں اس نعرے کی یوں بھی گونج ہے کہ گزشتہ دنوں مین اسٹریم میڈیا پر ایک ٹاک شو کے دوران ماروی سرمد نے یہ نعرہ بلند کیا جس پر’دو ٹکے کی عورت‘ کے ڈائیلاگ سے مشہور ہونے والے اسکرپٹ رائٹر خلیل الرحمان قمر صاحب نے شدید ردعمل دیا، جس کے بارے میں آپ سب ہی جانتے ہیں۔

بیشتر مرد ’میرا جسم میری مرضی‘ کے حوالے سے کیا سوچتے ہیں؟

سب سے اہم امر تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو اس پر اعتراض ہے وہ ’میرا جسم میری مرضی‘ سُنتے ہی اپنی اچھے صاف ستھرے دماغوں میں جنسی خیالات لے کر آتے ہیں، یعنی ہماری بیوی، بہن، بیٹی اپنے جسم کو اپنی مرضی سے استعمال کریں گی اور وہ بھی کسی اور مرد کے ساتھ۔۔ اسی سوچ کی وجہ سے وہ اس نعرے کو غلیظ، سماج اور ثقافت کے خلاف قرار دیتے ہیں۔

جب آپ ایسے لوگوں سے بات کریں تو وہ دلیل دیتے ہیں کہ جسم اللہ کا تحفہ ہے، اس پر کسی کا اختیار نہیں، البتہ جب اُن سے گینگ ریپ، خواتین کے ساتھ زیادتیوں کا تذکرہ کیا جائے تو وہ شیطان کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں، کیونکہ اُن کے دماغوں میں یہ بات بیٹھ چکی مرد بہک سکتا ہے، غلطی کرسکتا ہے اور اس میں عورت کا برابر قصور ہوتا ہے۔

Image result for میرا جسم میری مرضی

جیسے اگر عورت ہر بات پر بنا کسی احتجاج مجبوری کے تحت راضی ہوجائے تو اُسے یہی مرد وفادار قرار دیتے اور جب وہ اپنے اعصاب کو مضبوط کر کے انکار کردے تو اُسے بے وفا کے ساتھ (کسی اور کی خواہش رکھنے والی بدچلن) جیسے طعنے سننے کو ملتے ہیں، اور جب اُن سے گفت گو ہو تو وہ مثال دیتے ہوئے آپ کی ماں بہن بیٹی ایک کردیتے ہیں۔

اعتراض کرنے والے مرد حضرات کو دوسرے کی بیوی، بہن، بیٹی تو  خوبصورت نظر آتی اور وہ اس سے وفا (اپنے مفاد کے استعمال) کی امید بھی رکھتے مگر اپنی ہی بہن ملازمت نہ کرنے والے یا زیادہ عمر کے شخص کے ساتھ شادی سے انکار  کی اجازت نہیں دیتے کیونکہ وہ مانتے ہیں کہ اُن کے گھر کی خواتین کو یہ حق حاصل نہیں، وہ ماتحت ہیں، غلام ہیں۔

اعتراض نہ کرنے والا طبقہ

ایک پڑھے لکھے اور متوسط طبقے کا مرد جو اپنی خواتین کے حوالے سے خوف کا شکار رہتا ہے اور اُس کی زندگی کو خوشیوں سے بھرنے کے جتن میں لگا رہتا ہے اُسے اس نعرے سے کوئی اعتراض نہیں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خواتین اُس کا معاشی میدان میں بھی سہارا بن سکتی ہیں۔

حیران کُن امر یہ ہے کہ نعرے یا عورت مارچ کے حق میں دلائل دیتے ہیں، کیونکہ وہ مانتے ہیں عورت کو حق حاصل ہے اپنی زندگی کو بھرپور انداز سے جینے کا، چونکہ وہ خود غلط نہیں کرتے یا اُن کے دماغوں میں کسی خاتون کے بارے میں غلط خیالات نہیں ہوتے تو وہ بالکل بے فکر ہیں اور خواتین کو حقوق دینے کے حق میں ہیں۔

ایسے لوگ کون ہیں، وہ جو سامنے آنے والی خاتون کے کپڑوں کو دیکھ کر اُس کا ایکسرے نہیں کرتے، وہ جو دوپٹوں کا گز ناپتے ہیں، موٹرسائیکل پر بیٹھنے والی خاتون کو (ڈیٹو) کی سند بلا خوف و خطر دے دیتے ہیں،  سڑک پر موبائل استعمال کرنے والی، اپنی مرضی سے ہنسنے رونے والی لڑکی، گیلری یا دروازے پر زیادہ دیر کھڑی ہونے والی، بازار میں آرام سے بارگین کرنے والی یا سگریٹ پینے والی لڑکی کو دیکھ کر ایک ہی بات سمجھتے ہیں اور انہیں یہ دھڑکا رہتا ہے کہ شاید اُن کی بہن بیٹی بھی اسی لائن میں کھڑی ہوجائے گی۔

Image result for میرا جسم میری مرضی

جو مرد اے ٹی ایم کے انتظار میں کھڑے ہونے کے باوجود اپنی باری پر خواتین کو جانے کی اجازت دیتے ہیں، اپنی بہنوں ، بیٹیوں یا بیوی کو تعلیم کے حصول سے نہیں روکتے، اُن پر مکمل بھروسہ کرتے، انہیں اعتماد دیتے، دلیل کے ساتھ کسی اختلاف کو ختم کرتے، غلطی پر ڈانٹ ڈپٹ  کر کے سمجھاتے، خواتین کا حقیقی اور بنا کسی مفاد کے سہارا بنتے انہیں ان نعرے اور خواتین کو حقوق دینے سے کوئی مسئلہ نہیں، وہ تو خواہش رکھتے ہیں ایسا ہوجائے تاکہ معاشرے کی دیگر خواتین بھی اُن کی بیوی، بہن، بیٹی اور ماں کی طرح زندگی گزار سکیں۔

 وہ کم عمری کی شادی سے بچ جائیں، بیٹے کی پیدائش کے چکر میں اتنے بچے کو نہ جن دیں کہ اُن کا جسم کھوکھلا ہوجائے،  شادی، تعلیم،  ملازمت، موبائل اور کپڑوں کے حوالے سے خود ہی انتخاب کریں، غلط بات کو منع کرنے کی ہمت رکھیں۔

مسائل کا حل کیا ہے؟

ان سارے مسائل کا حل بہت آسان ہے، سب سے پہلے تو ایک بات جو ہمارے مشاہدے میں رہی تو وہ یہ ہے کہ جب عورت ضد پر آجائے تو بھی نتائج کی پرواہ نہیں کرتی، وہ ہر کام کو کر گزرتی ہے، ایسی نوبت کو آنے ہی نہ دیا جائے اور اُس سے پہلے ہی گفت و شنید کے ساتھ مسائل کو حل کیا جائے۔

سب سے اہم سمجھنے کی بات یہ بھی ہے کہ عورت صرف وہ نہیں جو آپ کے گھر پر ہے، بلکہ وہ ہر گھر پر ہے، اُس کے جسم کے ساتھ اُس کی روح بھی ہوتی ہے، جیسے آپ کی انا ہے وہ بھی اسی طرح انسان ہے، اُسے صرف ایک ہی مقصد کے لیے نہ سوچیں، اُسے بھی اڑنے کا موقع دیں، اتنا بھروسہ اور اعتماد دیں کہ اگر وہ دانستہ نا دانستہ غلطی بھی کر بیٹھے تو اس کو چھپانے کے بجائے اعتراف کرے اور بھروسہ ہو کہ بھائی، باپ، بیٹا اورشوہرسُن کر معاف کردے گا۔

خواتین کو موقع دے کر دیکھیں، انہیں بھی زندگی جینے دیں، ماں بہن کی گالیوں کو ترک کریں، تضحیک ترک کریں، الزام تراشی اور پاک دامنی جیسے سنگین الزامات عائد نہ کریں، اپنی آنکھوں میں حیا اور سوچ میں پختگی لائیں تو پھر آپ دیکھیے گا کہ آپ کی زندگی کتنی سہل ہوگی، یہ خوشیوں کے ساتھ بھر جائے گی، پھر آپ کو موزہ ڈھونڈنے، کھانا گرم کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور اگر کبھی کسی وجہ سے ایسی نوبت آ بھی گئی تو آپ کی انا اور خدداری کو ٹھیس نہیں پہنچے گی کیونکہ آپ عورت کو بھی انسان سمجھیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: