اس سے قبل چالیس سال ایسے تھے جب حج موقوف کرنا پڑا

ریاض: سعودی عرب کے وزارتِ حج نے کرونا وائرس کی شدت کے پیش نظر دنیا بھر کے مسلمانوں کو کہا ہے کہ وہ حج کی تیاریاں منسوخ کردیں کیونکہ امسال حج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
حج مؤقوف ہونے کے بعد احادیث کو بنیاد پر بنا کر یہ باتیں کی جارہیں ہیں کہ قربِ قیامت حج بند ہوجائے گا اور پھر دنیا ختم ہوجائے گی۔ اگر کرونا کے پیش نظر اس بات کو پیش کیا جائے تو تناظر بالکل غلط ہوگا کیونکہ چالیس سال ایسے رہے جن میں حج ادا نہیں کیا گیا۔
کیا آپ جانتے ہیں وہ چالیس سال کون سے ہیں؟
سنہ 930 سے 940 عیسوی تک حج موقوف رہا کیونکہ اُس وقت قرمطینیوں کے نام سے ایک فرقہ حج کو کفر کا رواج سمجھتا تھا، اس لیے انہوں نے حج کے لیے آنے والے 30 ہزار سے زائد زائرین کو ذبیحہ کیا اور زم زم کے کنویں میں اُن کی لاشیں بھر دی تھیں۔انہوں نے کعبہ کو بھی نقصان پہنچایا اور مقدس کالے پتھر (حجرہ اسود) جو جنت کے پتھر سمجھا جاتا ہے کے ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچایا تھا۔

سنہ 1256 سے 1260 عیسوی (654 تا 658 ہجری) تک سیاسی کشیدگی کے باعث حج موقوف رہا اور اس دوران صرف عرب کے شہریوں کو ہی مناسک ادا کرنے کی اجازت دی گئی۔
سنہ 967 عیسوی اور 357 ہجری وہ سال تھا جب طاعون کی وبا کی وجہ سے ہزاروں انسان اور جانور مر گئے تھے، صورت حال کے پیش نظر اُس سال حج ادائیگی پر مکمل پابندی تھی۔

سنہ 1000 عیسوی اور 390 ہجری میں مصرف کے عازمین بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے حج نہیں کرسکے تھے، یہی صورت حال 419 ہجری اور 1028 عیسوی میں بھی پیش آئے تھی۔
سیاسی تنازعات کی وجہ سے 885 عیسوی اور 1001 عیسوی (272 ، 392 ہجری) میں سعودی عرب کا عراق سے ساتھ چلنے والا تنازع شدت اختیار کرگیا تھا، جس کے بعد عالمی سطح پر حالات کشیدہ ہونے کا خطرہ تھا تو اُس سال بھی حج ادائیگی کی اجازت نہیں دی گئی۔

سنہ 1001 عیسوی اور 403 ہجری میں عراق اور خراساں کے عازمین سیاسی تنازع اور غیر معیاری سڑکوں کی وجہ سے حج ادا نہیں کرسکے تھے۔
سنہ 1026 عیسوی اور 417 ہجری میں شدید سردی کی وجہ سے غذا کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ تھا جس کے بعد عراق کے عازمین کو حج ادائیگی سے روک دیا گیا تھا۔

سنہ 1925 عیسوی اور 1344 ہجری میں مصر سے تعلق رکھنے والے عازمین کسوہ (غلاف کعبہ) لے کر قافلے کی صورت میں حرم آرہے تھے کہ اُن پر حملہ ہوا اور پھر حج کو موقوف کرنا پڑا۔
