’مسلمان حج کی تیاریاں روک دیں‘

’مسلمان حج کی تیاریاں روک دیں‘

ریاض: سعودی عرب کے وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر صالح بنتن نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک حج انتظامات کے سلسلے میں ابھی حتمی معاہدے نہ کریں . ڈاکٹر صالح بنتن نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے درخواست کی ہے کہ وہ کورونا وائرس کے حوالے سے منظر نامہ صاف ہونے تک حج اور عمرے کے انتظامات کے سلسلے میں انتظار کریں .

تفصیلات کے مطابق سعودی وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر محمد صالح بن طاہر بنتن نے کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث مسلمانوں سے حج کی تیاریاں موخر کرنے کا کہا ہے۔ سعودی وزیر حج و عمرہ ڈاکٹرصالح بن طاہر بنتن نے سرکاری ٹی وی الاخباریہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہ سعودی عرب حج اور عمرہ زائرین کی خدمت کے لیے پوری طرح تیار ہے اور سعودی حکومت ان کو کسی بھی وقت آنے کی اجازت دے سکتی ہے. لیکن ابھی حالیہ دنوں میں ہمیں عالمی وبا کا سامنا کر رہے ہیں، اللہ تعالی سب کو اس سے محفوظ رکھے۔

انہوں نے کہا جب ویزا سروسز بند کی گئی تو اس وقت سعودی عرب میں پانچ لاکھ عمرہ زائرین موجود تھے اور ہمارے تمام اداروں نے ملکر ان لوگوں کو اپنے وطن واپس پہنچانے میں مدد کی.کورونا وائرس سے متاثر تمام مریضوں اور وہ بھی جن کے متاثر ہونے کا شبہ تھا ان تمام افراد کا علاج مفت کیا گیا،چاہے وہ شہری ہر ہو غیر ملکی، انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے تمام مسلم ممالک سے درخواست کی ہے کہ فی الحال حج معاہدے نہ کریں یہاں تک کہ صورتحال واضح ہو جائے۔

سعودی عرب کی وزارت حج اور عمرہ نے اس بات کا خیال رکھا کے ان تمام افراد کو جنہوں نے عمرہ پیکیج کی ادائیگی کردی تھی اور کورونا وائرس کے سبب اس کی .سعادت سے محروم رہ گئے انہیں ان کی رقم واپس کی جائے گی اس معاملہ کی آن لائن کنفرمیشن کی گئی۔ وزیر حج نے کہا کہ سعودی عرب پروازوں پر پابندی کے باعث وطن واپس نہ جاسکنے والے 1200 عمرہ زائرین کی میزبانی کررہا ہے.ڈاکٹر صالح بنتن نے خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہوکر سعودی نیوز چینل سے گفتگو میں یہ بھی کہا کہ ایسے تمام عمرہ زائرین کو ان کے پیسے واپس کردیے ہیں جنہوں نے عمرہ ویزا حاصل کرلیا تھا لیکن عمرہ نہیں کرسکے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: