Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
متحدہ لندن کی بھارت کو بھیجی گئی دو ہزار سے زائد ای میلز اداروں‌ کے ہتھے چڑھ گئیں | زرائع نیوز

متحدہ لندن کی بھارت کو بھیجی گئی دو ہزار سے زائد ای میلز اداروں‌ کے ہتھے چڑھ گئیں

کراچی(ڈیلی پاکستان) تحقیقاتی اداروں اور پولیس کی مشترکہ کارروائی کے دوران ایم کیو ایم لندن کے گرفتار 3 کارکنوں شاہد متحدہ، عادل انصاری اور ماجد علی نے جے آئی ٹی کے سامنے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔

اس حوالے سے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گرفتار دہشت گرد ماجد علی جامعہ کراچی کا ملازم ہے اس کی نشاندہی پر جامعہ کراچی کے ایک ڈپارٹمنٹ کے دفتر پر چھاپے کے دوران برآمد کیے جانے والے کمپیوٹر سے مبینہ طور پر بھارت سے بھیجی گئیں 2 ہزار سے زائد ای میلز کے شوہد ملے ہیں۔بھارت میں مقیم دہشت گردوں کا ساتھی محمود کراچی میں موجود نیٹ ورک میں اسلحہ اور رقوم کی تقسیم اور دیگر ہدایات دیتا ہے جبکہ مذکورہ رقم منی ایکسچینج کے ذریعے ملتی تھیں اور وہ رقم نامعلوم افراد کے اکاﺅنٹس میں منتقل کر دیے جاتے تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ ماجد علی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچنے کے لیے جامعہ کراچی میں اپنے آفس کا کمپیوٹر استعمال کرتا تھا، ماجد علی کا بھائی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا تھا جس کے بعد اسے جامعہ کراچی میں کمپیوٹر آپریٹر کی ملازمت ملی تھی۔ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے جے آئی ٹی کے سامنے متعدد سیاسی رہنماﺅں سے قریبی تعلقات کا بھی انکشاف کرتے ہوئے مزید بتایا کہ محمود کی ہدایت پر کرایے کے ایک گھر میں اسلحے سے بھری گاڑی کا تمام اسلحہ اس گھر میں چھپایا تھا جسے بعدازاں دیگر 2 گھروں میں منتقل کرنے کے بعد فیڈرل بی ایریا بلاک 15 میں چھپایا تھا جہاں سے یہ اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ای میلز میں اسلحہ کے لیے کوڈ لٹریچر استعمال کیا جاتا تھا جبکہ دہشت گردوں نے جے آئی ٹی کے سامنے ایسے افراد کا بھی نام لیا ہے جن کی کی طرف سے انھیں معاونت فراہم کی جاتی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے سنسنی خیز انکشافات کے بعد تحقیقات کو مزید وسیع کیا جا رہا تاکہ دہشت گرودں کی سہولت کاری میں چھپے کرداروں کو بھی بے نقاب کیا جاسکے۔