جہانگیر و علیم ۔۔۔ از قلم مسٹر منقول

میچ پر گرفت کمزور پڑتی جارہی ہے، ایسا نہیں تھا کہ مخالف ٹیم اچھا کھیل رہی تھی۔
بات یہ تھی اپنے کھلاڑی غلطیاں کر رہے تھے۔

مایوس کن کارکردگی سے پریشان سلیکٹرز بھی ٹیم میں اعلیٰ سطح کی بڑی تبدیلی کا سوچ رہے ہیں ۔
کپتان نے میدان سے باہر بیٹھے سلیکٹرز کے ارداے بھانپ لیے۔
بلا ٹالنی ہے تو قربانی دینی ہوگی، وہ بھی بڑی اسامی کی۔ کپتان نے جو کافی حد توہم پرست ہوچکا تھا جہانگیر کی جانب دیکھ کر سوچا۔
جہانگیر ٹیم کا امیر ترین کھلاڑی تھا اور اپنی دولت کپتان پر نچھاور کرتا آیا تھا۔
جہانگیر کو نکالنے سے ٹیم کی کارکردگی بہتر ہوسکتی ہے لیکن مالی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ کپتان اسی سوچ میں گم تھا کہ ایک خیال سے مسکراہٹ لبوں پر پھیل گئی۔

اگلے ہاف میں جہانگیر کو ٹیم سے باہر کردیا گیا تھا اور اس کی جگہ علیم نے لے لی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: