عافیہ سابق ، اب سنتھیا پاکستان کی بیٹی ، سیدہ حرا علی

عافیہ سابق ، اب سنتھیا پاکستان کی بیٹی ، سیدہ حرا علی

یہ سنہ 2003 کی بات ہے، جب پاکستان میں ایک آمر صدر کے عہدے پر تخت نشین تھا، ہر فیصلہ مکے کے زور پر ہوتا تھا کیونکہ آئین کو بڑے بڑے جوتوں تلے روند کر اپنی مرضی کی جمہوری (تانگہ پارٹیاں) بنا کر دکھاوے کی عوامی حکومت بنائی گئی تھی۔

اُس وقت کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی 30 مارچ، 2003ء کو اپنے تین بچوں سمیت راولپنڈی جانے کے لیے ٹیکسی میں ہوائی اڈا کی طرف روانہ ہوئی مگر وہ راستے سے کہیں غائب ہوگئیں اور پھر بعد میں معلوم ہوا کہ سنتھیا کے ہم وطن (فوجی، حساس ادارے کے اہلکار) انہیں اغوا کر کے لے گئے ہیں۔

عافیہ صدیقی کو جس وقت پاکستان سے گرفتار کر کے امریکا منتقل کیا گیا اُس وقت اُن کی عمر محض تیس سال تھی، پاکستان کے مقامی اخباروں میں عافیہ کی گرفتاری کی خبر شائع کی مگر بعد میں وزیروں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور بات کو دبانے کے لیے اہل خانہ پر بذریعہ فرشتے دباؤ ڈلوایا گیا۔

بعد ازاں جماعت اسلامی نے اس معاملے پر خوب سیاست چمکائی، عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے بھی ایک تنظیم بنائی جس نے کئی سالوں تک چندہ اکھٹا کیا اور یہ اعلان کیا کہ وہ پاکستان کی بیٹی کو چھڑوا کر واپس اپنے گھر لائیں گے۔

عافیہ پر کیا الزامات ہیں اور اُن کی کتنی صداقت ہے، یہ ایک طویل البحث موضوع ہے، مگر یہ ایک حقیقیت ہے کہ وہ گزشتہ 17 سال سے امریکا کی جیل میں قید ہیں اور انہیں ایک آمر کے دور میں پاکستان سے لے جایا گیا، ویسے تو عافیہ قابل ذکر ہیں مگر اُن کے علاوہ بھی کہی لوگوں کو ملکی سالمیت کی خاطر امریکا کے حوالے کیا گیا۔

اس واقعے کے بعد پاکستان میں 8 وزرائے اعظم آئے، مگر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی، عمران خان نے جب وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تو چند ہی ماہ بعد یہ خبریں بڑے زور وشور سے چلائی گئیں کہ کپتان کی زبردست چال کامیاب ہوگئی اور امریکی اب عافیہ کو ہمارے حوالے کردیں گے، حتی کہ یہ تک بتایا گیا کہ کپتان نے ٹرمپ سے ملاقات کی تو عافیہ کا ذکر کیے بغیر نہ رہ سکے۔

اُس کے بعد طالبان مذاکرات کا دور آیا، پھر یہ خبر چلائی گئی کہ طالبان نے امریکا کو جاں بخشی دینے کے لیے پاکستان کی بیٹی اور اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا، یہ خبر بھی پڑی ، تجزیہ نگار وں نے طالبان کو ہیرو بنایا مگر وہ ہیروز قطر میں ایک معاہدے پر راضی ہوگئے، جس میں یقیناً دونوں فریقین کو محفوظ راستہ ملا۔

کپتان کی حکومت آئے تقریباً دو سال کا عرصہ ہونے کے ہے اور طالبان کی بات چیت ہوئے بھی 6 ماہ گز گئے ، حتی کہ ہم چین کو ناراض کر کے امریکا کے کوٹ میں بھی جا بیٹھے اور کرایے کے پپو بن کر کام کرنے کے لیے تیار ہوگئے مگر عافیہ کے معاملے پر کوئی پیشرفت نہیں نظر آئی۔

اب صورت حال یہ ہے کہ جن کو اس بات کی خوش فہمی تھی کہ کپتان آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ، جیل کا تالا توڑ کر عافیہ کو لائیں گے وہ اس معاملے پر بات تک نہیں کرتے اور وہی لوگ اب امریکی خاتون صحافی سنتھیا کو پاکستان کی بیٹی ، قوم کی عزت قرار دے رہے ہیں۔

سنتھیا 2012 میں ہیلتھ کیئر سیکڑ میں کام کرنے کے لیے پاکستان آئیں، انہوں نے مختلف نشریاتی ویب سائٹس پر بلاگ لکھے، اپنی پروفائل پر بلاگر لگایا، پھر پاکستان میں دوستیاں بڑھیں، خصوصی پروٹوکول کی عنایت ہوئی، سیاحت کی اور دستاویزی فلم بنانے کا بھی اعلان کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران سنتھیا نے اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو پر الزامات بھی عائد کیے، مگر خیر بات آئی گئی ہوگئی، وہ گزشتہ کئی روز سے پی پی کے پیچھے ہاتھ دھو کر ایسے پڑی ہیں جیسے خان صاحب وزیر اعظم بنتے ہی نوازشریف کے پیچھے پڑے ہوئے تھے۔

انہوں نے گزشتہ دنوں پی پی پر ایک بار پھر سنگین الزام عائد کیا، اور آج تو ایک ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے انہیں ریپ کا نشانہ بنایا جبکہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے دست درازی کی اور وفاقی وزیر صحت مخدوم شہاب الدین صدارتی محل میں انہیں بدسلوکی کی۔

سنتھیا نے یہ الزامات ایک ویب سائٹ کو ویڈیو انٹرویو دیتے ہوئے بنائے جس کے بعد تمام ہی میڈیا چینلز نے ایک خاص انداز سے اس خبر کو پیٹنا شروع کیا، حتی کہ یوسف رضا گیلانی کو صفائی دینی پڑی اور انہوں نے بتایا کہ اُن کے صاحبزادوں نے امریکی خاتون کے خلاف ہتھک عزت کا دعویٰ دائر کردیا ہے۔

اس سے قبل جب سنتھیا نے پی پی کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم شروع کی تو پیپلزپارٹی نے ایف آئی اے سمیت دیگر حساس اداروں کو خط لکھا جس میں خاتون کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اب بہت کاوشوں کے بعد عدالت کے ذریعے پی پی نے خاتون کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی منظوری دی جبکہ سنتھیا بھی پی پی کے خلاف محاذ کھولنے کے بعد صبا ایزی لوڈ والی کی طرح پاکستانیوں نے چندہ مانگ رہی ہیں، وہ جلد ہی حبیب بینک میں اپنا اکاؤنٹ کھلوائیں گی۔ اتنی زیادہ مہربانیوں اور تحفظ کے بعد اب یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ عافیہ قومی کی سابق بیٹی جبکہ سنتھیا موجودہ بیٹی ہے، جو ہر وہ کام کرنے کو تیار ہے جس کا اُسے بولا جائے اور اگر ممکن ہو تو سنتھیا سے اس کام میں بھی مدد لے لی جائے کیونکہ بعض اوقات ناکارہ کارتوس بہت کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: