آل آئرن اسٹیل مرچنٹس ایسوسی ایشن بجٹ پر حکومت کی مشکور

آل آئرن اسٹیل مرچنٹس ایسوسی ایشن بجٹ پر حکومت کی مشکور

آل آئرن اسٹیل مرچنٹس ایسوسی ایشن رجسٹرڈ کے صدر حماد پونا والا نے بجٹ 2020 میں تجاویزات پرکمرشل امپورٹر اور اسٹیل انڈسٹری پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کرنے پر حکومت کے شکرگزار ہیں۔

کراچی: آل آئرن اسٹیل مرچنٹس ایسوسی ایشن رجسٹرڈ کے صدر حماد پونا والا کا کہنا ہے کہ مالی سال کے بجٹ 2020 میں تجاویزات پر اسٹیل انڈسٹری و تعمیراتی انڈسٹری پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کرنے پر حکومت کے تہہ دل سے مشکور و ممنون ہیں۔

وفاقی بجٹ 21-2020 میں اسٹیل انڈسٹری میں کمرشل کنزیومر میں جو فرق کیا گیا وہ قابل تحسین ہے۔اس سے بہت سے کمرشل امپوٹرز اور ٹریڈرز کو روزگار ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے ایچ آڑ سی پر ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی 17.5% سے 12.5% تھی، ایڈیشنل ڈیوٹی 2%، سیلز ٹیکس 17%، انکم ٹیکس 6% تھا یعنی ٹوٹل 42.5% تھاجبکہ مالی سال کے بجٹ 2020 میں کمی واقع ہونے کے بعد ایچ آڑ سی میں ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی 11% کردی گئی یعنی 6.5% کمی واقع ہوئی ایڈیشنل ڈیوٹی 2%، سیلز ٹیکس 17%، انکم ٹیکس 2%، یعنی ٹوٹل 32% ہوگیا جس کے مطابق فی ٹن 10,000 روپے کمی واقع ہوئی ہے۔ اسی طرح جی پی کوائل سی اڑ سی پر ڈیوٹی 10%، ریگولیٹری ڈیوٹی 5%، ایڈیشنل ڈیوٹی 2%، سیلز ٹیکس 17%، انکم ٹیکس 6%، تھا یعنی ٹوٹل 40% بنتا ہے بجٹ پیش ہونے کے بعد اب سی آڑ سی اور جی کوائل گیلونائزڈ کوائل پر ڈیوٹی 10%، ریگولیٹری ڈیوٹی 5%، ایڈیشنل ڈیوٹی 2%، سیلز ٹیکس 17%، انکم ٹیکس 2%، کردیا گیا جوکہ ٹوٹل 36% بنتا ہے یعنی 4% کمی واقع ہوئی اس کمی کے مطابق فی ٹن پر 4500 سے 4000 کی کمی ہوئی ہے۔ اسکے علاوہ مینوفیکچررز پائپ ملز والوں کے لئےڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی 11%، ایڈیشنل ڈیوٹی 2%، سیلز ٹیکس 17%، انکم ٹیکس 2%، یعنی ٹوٹل 32% ہوا جوکہ کمرشل امپورٹرز اور پائپ ملز والوں کے لئے یکساں کردیا گیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ اس اقدامات سے حکومت کو اربوں روپے کا ریونیو جنریٹ ہوگا اور بجٹ خسارہ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سے انکم ٹیکس چوری کے مواقع بھی ختم ہوجائیں گے۔ جوکہ خوش آئند بات ہے۔ہم کافی عرصے سے کوشش کررہے تھے کہ اسٹیل انڈسٹری میں کمرشل امپورٹرز کی واپسی ہو اور امپورٹر اور مینوفیکچررز کو یکساں مواقع فراہم ہوں ۔گزشتہ کافی عرصے سے کمرشل امپورٹر ز کو دیوار سے لگایا جارہا تھا جس کے باعث امپورٹ بالکل نہ ہونے کے برابر تھی اور مینوفیکچررز اس کا پورا فائدہ حاصل کررہے تھے ۔ابھی بھی ایس آر او 565 اور 655 میں ٹیکسوں اور ڈیوٹی اسٹرکچر میں کافی حد تک فرق باقی ہے۔

ایس آر او کے غلط استعمال پر آل آئرن اسٹیل مرچنٹس ایسوسی ایشن رجسٹرڈ نے شروع سے مخالفت کی ہے اور ہمیشہ ہر فورم پر اس کی روک تھام کے لئے آواز اٹھائی ہے ۔کمرشل امپورٹ کرنے سے حکومت کو سالانہ بہتریں ریوینیو جنریٹ ہوگا اور ایس آر او کے غلط استعمال کے غلط استعمال کی بھی روک تھام ہوگی۔ میری تمام لوہے کے تاجروں سے اپیل ہے کہ اب ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ مل رہی ہے لہٰذا اپنے کمرشل امپورٹر کو سپورٹ کریں، ہمیں اپنے کمرشل امپورٹرز کو سپورٹ کرنا چاہئے تاکہ ہم کمرشل امپورٹ کرنے اور ایس آر او پر امپورٹ کرنے کا فرق حکومت کو واضح کرسکیں ۔تمام کمرشل امپورٹرز سے بھی گزارش ہے کہ وہ بھی لیگل طریقے سے اپنی امپورٹ کریں اور ا س موقع سے بھر پور استفادہ حاصل کریں۔اس سلسلے میں ہماری ٹیم نے جو انتھک محنتیں کی ہیں وہ قابلِ تحسین ہیں میں ان کاوشوں پر اپنی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ہماری اس مہم میں میڈیا نے بھی ہمارا بھر پور ساتھ دیا اور ہماری آواز کو حکومت تک پہنچانے کا ذریعہ بنی۔ہم تمام میڈیا کا بھی اس مہم میں بھر پور ساتھ دینے پر انتہائی تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: