شیعہ علما کی اہم پریس کانفرنس، گرفتاریوں پر سخت ردعمل

شیعہ علمائے کرام و اکابرین کی اہم پریس کانفرنس
کالعدم دہشتگردگروہ کامقصدملکی ریڑھ کے منصوبے سی پیک کوسبوتاژکرناہے ایسانہیں ہونے دینگے،علامہ شہنشاہ نقوی
زیارت عاشورہ پڑھنے پرہونیوالی گرفتاریوں اورمقدمات کی پرزورمذمت،فوری رہائی اورمقدمات واپس لیے جائیں،پریس کانفرنس
5ستمبر ملتِ جعفریہ کی جانب سے آل کراچی عُلمائے امامیہ، آئمہ جمعہ و جماعت و ذاکرین کنوینشن منعقد کیا جائے گا۔علامہ شہنشاہ نقوی
کراچی ()کراچی بھوجانی ہال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علامہ شہنشاہ نقوی علامہ شبیرمیثمی علامہ باقرزیدی اوردیگرکاکہناتھاکہ پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہورہا ہے اور اس کے داخلی مسائل حل طلب ہیں، جہاں عالمی سیاست گزشتہ چند برسوں سے مسلسل فرسودہ اور آزمودہ پالیسیوں سے ہاتھ اٹھاکر نئے انداز میں اچھے دوستوں کی تلاش میں ہے وہاں پاکستان بھی چینج آف بلاک کررہا ہے جو پرانے بلاک کے ممالک کے لیے ناپسندیدہ ہے۔ عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات اس خطے کے لیے اتنی بھیانک ہے کہ جس پر پورا اسلامی ملک پاکستان مخالف ہوسکتا ہے۔ اُدھر کشمیر میں مسلسل ظلم و بربریت سے توجّہ ہٹانا عالمی شیطانی طاقتوں کا اہم ہدف ہے، جس کے لیے ملک میں سیاسی عدم استحکام کی بھرپور کوششیں ہوئیں اور ہورہی ہیں، چاروں (صوبائی)قومیتوں کی تقسیم جیسے ناپاک عزائم، اسی طرح مذہبی منافرت بھی اِن پاکستان دشمن عناصر کے لیے ایک بہترین راستہ ہے۔ گزشتہ کئی مہینوں سے اِس کی مثالیں سامنے آتی رہی ہیں۔ نواسہ رسولؐ، جگر گوشہ بتول ؑ، دلبندِ علی ابنِ ابی طالبؑ کی عظیم قربانیوں کی یاد(یعنی محرّم الحرام جس میں پاکستان کا ہر مکتب و مسلک بلکہ ہر دین و دھرم اپنا حصہ اپنے اپنے طریقوں سے ڈالتا ہے) کے دوران ایک منصوبہ بندی کے تحت مذہبی منافرت اور دل آزاری کے کام ہوئے اور انہیں بڑھاوا دینے والے غیرذمّہ داروں نے اپنا منفی کردار ادا کیا۔ ہم اس مجموعی ماحول کو ناپسند قرار دیتے ہیں اور اتحاد و وحدتِ اُمّت پر عقیدہ رکھتے ہیں اور اِس میں ہماری کسی طرح کی کوئی دوہری پالیسی نہیں،کیوں کہ ہم نے اِس ملک میں اس وحدت کی خاطر بہت قربانیاں دی ہیں، تمام فُقہائے امامیہ کا فتویٰ ہے کہ مُسلّمہ اسلامی مسالک کے مقدّسات کی توہین شرعاً ناجائز ہے لہٰذا ہم مقدسات کی توہین کرنے والوں سے عملاً لاتعلق رہے البتہ شیعیانِ حیدرِ کرّارِؑپاکستان کسی مسلک کے عقائد کو جو خود اُن کے نزدیک مُسلّم نہ ہوں، تسلیم کرنے کے پابند نہیں اور اپنے مُسلّمہ عقائد پر عمل کرنے کا قانونی اور شرعی حق رکھتے ہیں۔موجودہ ملکی صورتِ حال پرجامع اور بہتر پالیسی مُرتّب کرنے کے لیے ملتِ جعفریہ کی جانب سے آل کراچی عُلمائے امامیہ، آئمہ جمعہ و جماعت و ذاکرینِ اہلبیت ؑکا کنوینشن بروز ہفتہ مورّخہ5ستمبر 2020ء بمقام بھوجانی ہال، سولجر بازار،کراچی منعقد کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ہم وزیرِ اعظم پاکستان جناب عمران خان اور سپہ سالارِ پاکستان جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب سے اپیل کرتے ہیں کہ اشتعال انگیزی، یک طرفہ بلاجوازگرفتاریاں، اجتماعات کو منافرت کے لیے استعمال کرنا اور سوشل میڈیا پر آزادانہ اور نامناسب انداز سے اختلافات کو ہوا دینے والوں پر توجّہ دیں نیز مغربی ممالک میں قرآن سوزی اور حضرتِ نبی مکرّم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی توہین آمیز خاکہ بندی کی شدید الفاظ میں مذمّت کرتے ہیں اور حکومتِ پاکستان سے سفارتی انداز سے اس مسئلے پر توجّہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: