لوگوں کی سیاسی وفاداریاں طاقت اور پیسے سے تبدیل کروائی جاتی ہیں، رضا ربانی

کراچی: چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ ریاست نے مخالفین کو کچلنے کے سوا کچھ نہیں دیا، طاقت کے زور پر پیسوں کے ذریعے لوگوں کی وفاداریاں تبدیل کی جاتی ہیں اس لیے آج بھی فوجی عدالتوں کے خلاف ہوں کیونکہ ادب اور شاعری کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔

کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ ریاست نے مخالفین کو کچھ نہیں دیا، پیسے کی چمک سے مقتدر حلقے لوگوں کی وفاداریاں تبدیل کرواتے ہیں جو اچھا عمل نہیں، دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ادب اور شاعری کو فروغ دیا جائے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی فوجی عدالتوں کے خلاف ہوں کیونکہ آرمی کورٹ کی مخالفت کی اجازت مجھے آئین نے دی ہوئی ہے، فوجی عدالتوں کے بل کے وقت میرے پاس صرف 2 راستے تھے۔

رضا ربانی نے کہا کہ سینیٹ کے ایوان میں نا بیٹھتا تو چھپ کر بل پر دستخط کرنے پڑتے یا پھر بل پیش ہونے پر اُس کی مخالفت کرتا، میں نے استعفیٰ نہیں دیا راہ فرار اختیار کی، سینیٹ میں مخالفت کے باوجود بل پاس ہوگیا مگر میرے مؤقف کی اخلاقی جیت ہوئی۔

پی پی پی رہنماء نے دل گرفتہ انداز میں اعتراف کیا کہ بزدلی یا لالچ کی وجہ سے استعفیٰ نہیں دیا۔ رضا ربانی نے یہ بھی کہا کہ فوجی عدالتوں پر میری پوزیشن آج بھی وہی ہے لیکن سوچا تھا کہ اگر راہ فرار اختیار کروں گا تو بھی بل پاس ہونے پر تو دستخط میرے ہی ہوں گے۔

رضا ربانی نے مزید کہا کہ سندھ اور پنجاب میں ایسی ٹیکسٹ بک پڑھائی جا رہی ہیں جن سے جمہوری جد و جہد کے باب غائب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی درس

ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نہیں ہے مگر سیاسی جماعتوں اور جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: