پانی سر سے اوپر چلا جائے پھر دیکھیں گے؟

پانی سر سے اوپر چلا جائے پھر دیکھیں گے

پچھلے تقریباً 15 دن سے دفتر جاتے ہوئے جب مزارِ قائدِ اعظم کے سامنے نمائش چورنگی سے گزرتا ہوں، تو کچھ کالے خیموں پر نظر پڑتی ہے۔ جن میں کئی لوگ بیٹھے ہوئے اپنا احتجاج رہکارڈ کروا رہے ہوتے ہیں، اپنے پیاروں کی گھر واپسی کی فریاد کررہے ہوتے ہیں۔ عورتیں، بوڑھے، بچے ہر عمر کے افراد نظر آتے ہیں۔ یہ لاپتہ شیعہ افراد کے اہلِ خانہ پر امن طریقے سے ریاست سے اپنا حق مانگ رہے ہیں۔

مگراس احتجاج کی خاص بات یہ ہے کے نہ ٹریفک میں کوئی خاص رکاوٹ ہے، نہ کوئی جلاؤ گھیراؤ اور نہ ہی کسی پر تشدد ہے۔ شاید اس ہی وجہ سے میڈیا، حکومت یا کسی اور کی ان شیعہ افراد پر کوئی توجہ نہیں گئی، کیوں کہ یہ ابھی پر امن ہیں۔

دوسری مثال جماعت اسلامی کی مل سکتی ہے۔ جوکراچی کے حقوق کے لیئے کئی مرتبہ احجاج رکارڈ کروا چکی ہے ایک دن میں کراچی کے اندر 50 جگہ دھرنے، ’’کراچی کو حق دو‘‘ کے نام سے ریلی وغیرہ۔ مگر کیوں کہ یہ بھی ابھی تک پرامن ہیں، جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد سے دور ہیں اس لیے ان پر بھی حکومت اور میڈیا کی کوئی خاص نظر نہیں پڑتی۔

سوال یہ بنتا ہے کہ جب تک کوئی جماعت، یا گروہ اپنے مطالبات کے لیئے پر تشدد نہ ہوجائے کیا ریاست کے نزدیک ان کی کوئی اہمیت نہیں؟ جب تک سڑکیں بند کر کے عوام کو پریشان نہ کیا جائے اس حتجاج پر میڈیا کی نظر نہیں پڑ سکتی؟ کیا اپنے حقوق کو اس وقت تک حاصل نہیں کیا جاسکتا جب تک کسی کا جانی اور مالی نقصان نہ ہو؟

کیا پانی سر سے اوپر جانے کے بعد ہی نیند سے بیدار ہوں گے؟

#Karachi #protest
#protest_for_missing_persons

اپنا تبصرہ بھیجیں: