لاپتہ افراد کے احتجاج کی کوریج، کے یو جے کے سابق صدر سے سادہ لباس اہلکاروں کی دست درازی و بدتمیزی
کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کا سابق صدر کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور طارق ابوالحسن سے سادہ پولیس کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکاروں کی دست درازی اور بدتمیزی کا شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔صدر راشد عزیز اور سیکرٹری موسیٰ کلیم
کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کی صدر راشد عزیز ،سیکرٹری موسیٰ کلیم اور مجلس عاملہ کی جانب سے مشترکہ بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کےسابق صدر طارق ابوالحسن پر گورنر ہاؤس کے باہر لاپتہ افراد کے احتجاج کے دوران پولیس اور سادہ کپڑوں میں اہلکاروں کی دست درازی اور بدتمیزی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
صحافیوں پر تشدد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور اگر حکومت نے اس حوالے سے کوئی راست اقدام نہ اٹھایا تو صحافی خود کوئی فیصلہ کرنے پر حق بجانب ہوں گے۔
کے یو جے دستوری نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت سندھ اور آئی جی سندھ پولیس سے واقعہ میں ملوث اہلکاروں کو معطل کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
یاد رہے کہ آج جبری گمشدگی کے خلاف عالمی سطح پر دن منایا گیا، کراچی میں لاپتہ اور گمشدہ افراد کے اہل خانہ نے شاہراہ فیصل سے گورنر ہاؤس تک ریلی نکالی تھی۔
اس ریلی میں بلوچ، سندھی، پختون اور مہاجر قومیت سے تعلق رکھنے والے افراد شریک تھے، جنہوں نے اہنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ اور انہیں جرائم پیشہ ہونے کی صورت میں عدالتوں میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔
پولیس ، قانون نافذ کرنے اور سیکیورٹی اداروں نے لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھرپور اقدامات کیے تھے۔
