کراچی:بولٹن مارکیٹ تاجراتحاد کے چیئرمین شریف میمن نے کہا ہے کہ ملک کی بدترین معاشی حالات میں کاروباررات 8 بجے بند کرناکروڑوں خاندانوں کے معاشی قتل کے مترادف ہے،توانائی کی بچت کیلئے تجربات ماضی میں ناکام ہوچکے ہیں۔
انہوں نے وفاقی کابینہ کے مارکیٹیں اورریسٹورنٹس رات 8 اورشادی ہال رات 10 بجے بند کرنے کے فیصلے کو یکسرمسترد کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے بغیرمشاورت مارکیٹس رات 8 بجے بند کرنیکا فیصلہ غیرآئینی ہے جو ہمارے لیے ناقابل عمل ہے،وفاق،صوبوں کی لڑائی میں تاجروں کو تختہ مشق بنانیکا سلسلہ بند کیا جائے،حکومت نمائشی اقدامات کی بجائے معاشی بحران کے حل پرتوجہ دے اوراس فیصلے پرنظرثانی کی جائے،وفاقی حکومت کی جانب سے ایسے فیصلوں سے توانائی کی بچت نہیں ہوسکی،حکومت تاجرکو قربانی کا بکرا نہ بنائے،حکومت اگر سنجیدہ ہے تو سرکاری دفاترکے اوقات کار تبدیل کرے اورایوان صدر،وزیراعظم ہاؤس سمیت تمام سرکاری دفاتر میں ایئرکنڈیشنزکو بند کیا جائے تاکہ بجلی کے ضیاں روکا جاسکے۔
انہوں نے کہاکہ تمام سڑکوں پارکوں تفریحی مقامات پرلگی ہزاروں لائٹس کو بند کیا جائے،حکومت معاشی بحالی کیلئے تاجرتنظیموں سے مشاورت کرے،سیاسی جماعتیں ملک میں جاری سیاسی محاذ آرائی کے خاتمے کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں،ملک کے معاشی حالات پہلے ہی خراب ہیں اورحکومتی پالیسیوں کی وجہ سے کاروباربند ہورہے ہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ دکانیں اورکاروبار رات 8 بجے بند کرنیکا یکطرفہ فیصلہ مسلط نہیں ہونے دیں گے،قربانی صرف تاجرنہیں،حکمران و سرکاری اداروں کو بھی دینی چاہئے،ملک پرقابض سیکولرسود خورجماعتوں نے ملک کو معاشی تباہی کی دلدل میں دھکیل دیا،حکومت اپنی نااہلی چھپانے کیلئے تاجروں کامعاشی قتل عام کررہی ہے۔
