نئی دہلی: بھارت میں فائرنگ کے واقعات میں 6افراد ہلاک ہوگئے ۔مسلمان کےقتل پر دفعہ 144نافذکردی گئی ،فوجیوں نے 2شہری،سابق ملازم نے مالک سمیت 3افراد،افسر نے ماتحت مارڈالا،شادی سے انکار پر لڑکی پر بہیمانہ تشدد کیا گیا ۔
وزیر خزانہ نرملا کی طبیعت ناساز ہو گئی جس پر انہیں ہسپتال داخل کرادیا گیا،تفصیلات کے مطابق بھارتی شورش زدہ ریاست چھتیس گڑھ میں بھارتی فوجیوں نے ایک خاتون سمیت دو افراد کو ہلاک کر دیا، فوجیوں نے ایک خاتون اور ایک مرد کو ریاست کے ضلع بیجاپور میں الگ ریاست کا مطالبہ کرنے والے نکسلیوں کے خلاف آپریشن کے دوران قتل کیا، تین خواتین کو نکسلائیٹس کیلئے کام کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
ریاست گجرات میں رات کی شفٹ میں ڈیوٹی کے دوران سونے پر ملازمت سے فارغ کیے جانے والے ملازم نے چاقوکے وار سے فیکٹری کے مالک کلپیش ڈھولکیا، اس کے والد اور انکل کو ہلاک کر دیا۔چھتیس گڑھ میں ایک ہیڈ کانسٹیبل کواپنے ماتحت سپاہی نے گولی مار کرقتل کردیاہیڈ کانسٹیبل کو ریاست کے ضلع کانکیر کے ایک سرکاری کالج میں قتل کیاگیا۔بھارتی ریاست کرناٹک میں منگلوروشہر کے علاقے کرشنا پورہ میں ہندوتوا گینگ کی جانب سے ایک مسلمان شخص کو چاقو گھونپ کر قتل کرنے کے بعدریاست کے مختلف علاقوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔
ہندوتوا گینگ کی جانب سے جلیل نامی مسلمان شخص کو چھرا گھونپ کر قتل کرنے کے بعدشہر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔پولیس نے بتایا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے 48 گھنٹے کے لیے پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔ جلیل پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ اپنی دکان کے سامنے کھڑا تھا۔پولیس نے بتایا کہ حملہ کرنے کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ جلیل کو زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ دوران علاج دم توڑ گیا، اب لاش کو مزید کارروائیوں کے لیے اے جے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
