Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
فارمولا طے ! مصطفیٰ کمال اہم پریس کانفرنس کرنے والے ہیں ! | زرائع نیوز

فارمولا طے ! مصطفیٰ کمال اہم پریس کانفرنس کرنے والے ہیں !

کراچی: گورنرسندھ کامران ٹیسوری کی کوششیں رنگ لانے لگیں،مصطفی کمال پی ایس پی ختم کرکے ساتھیوں سمیت ایم کیو ایم پاکستان میں شمولیت کیلئے تیارہوگئے، مصطفی کمال اورانیس قائمخانی کی متحدہ میں شمولیت کا باضابطہ اعلان آج یا ہفتہ کے روزمتوقع ہے۔

دونوں جماعتوں کے ملاپ کا اعلان پریس کانفرنس میں،مصطفی کمال خالد مقبول کی سربراہی میں سیاسی جدوجہد کو بھی تیارہوگئے، ذرائع کے مطابق گورنرسندھ کی مسلسل کوششوں کے بعد مصطفی کمال اور ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے پرراضی ہوگئی،گورنرہاؤس میں ایم کیوایم پاکستان رابطہ کمیٹی نے تمام گروپس کو ایم کیو ایم میں ضم کرنے کا فارمولہ طے کرلیا۔

ذرائع نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں پی ایس پی ایم کیو ایم میں ضم ہوگی دوسرے مرحلے میں فاروق ستاراپنے ساتھیوں سمیت ایم کیوایم پاکستان میں شامل ہونگے،پی ایس پی چیئرمین مصطفی کمال کو سینئرڈپٹی کنوینئر اورانیس قائمخانی کو ڈپٹی کنوینئررابطہ کمیٹی کا عہدہ دیا جائیگا جبکہ پی ایس پی کے عہدیداروں کو ایم کیو ایم پاکستان کے عہدوں پرایڈجیسٹ کیا جائیگا،ایم کیو ایم میں شامل ہونے کے بعد پی ایس پی اپنے دفاتر بند کردیگی۔

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی کے کنوینئرخالد مقبول ہی ہونگے،دوسری طرف ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کی جانب سے مصطفی کمال کی ایم کیو ایم پاکستان میں شمولیت کے حوالے سے تصدیق ہورہی ہے نہ تردید،ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے مکمل خاموشی اختیارکررکھی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مصطفی کمال اورانیس قائمخانی کی ایم کیو ایم پاکستان میں شمولیت کی خبروں اورگورنرسندھ کی مسلسل مداخت پرایم کیوایم پاکستان کے تنظیمی عہدیداروں اورکارکنان کی جانب سے شدید مخالفت اورردعمل کا اظہارکیا جارہا ہے۔