پاک فوج سپریم کورٹ‌ کے اعتماد پر پورا اترے گی، اعلیٰ قیادت کا عزم

پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ وہ پاناما کیس میں مزید تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی میں شفاف اور قانونی طریقے سے اپنا کردار ادا کرے گی۔

یہ بات پیر کو جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں منعقدہ کور کمانڈر کانفرنس کے بعد فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کیے گئے مختصر بیان میں کہی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کانفرنس میں سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں پر دیا جانے والا فیصلہ بھی زیرِ بحث آیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے فوج پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے وہ اس پر پورا اترے گی اور شفاف اور قانونی طریقے سے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی میں اپنا کردار نبھائے گی۔

سپریم کورٹ نے 20 اپریل کو اس معاملے پر اپنے اکثریتی فیصلے میں سات دن میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا حکم دیتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں کو تحقیقاتی عمل کا حصہ بننے کو کہا تھا۔

ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں بننے والی چھ رکنی تحقیقاتی ٹیم میں قومی احتساب بیورو، سٹیٹ بینک آف پاکستان، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے نمائندوں کے علاوہ فوج کے خفیہ اداروں انٹر سروسز انٹیلیجنس اور ملٹری انٹیلیجنس کا بھی ایک ایک افسر شامل ہو گا۔

اس کمیٹی کو تحقیقات کے لیے 60 دن کا وقت دیا گیا ہے جس کے دوران وہ ہر دو ہفتے بعد اپنی کارگزاری کے بارے میں رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔

خیال رہے کہ ملک میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے جہاں اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو اس کی تشکیل سے پہلے ہی مسترد کر دیا ہے، وہیں اس کی ساخت پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف اعتزاز احسن نے اس سلسلے میں کہا تھا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کے ساتھ ان (شریف خاندان) کا تعلق خاندانی ہے۔ 19 اور 20 گریڈ کے افسران وزیر اعظم اور ان کے خاندان کی کیا تحقیقات کریں گے؟ ہم اس جے آئی ٹی کو مسترد کرتے ہیں۔’

پاناما کیس کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے میں جہاں سپریم کورٹ کے تین جج صاحبان نے اس معاملے کی مزید تحقیق کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم دیا تھا وہیں بینچ کے سربراہ سمیت دو ججوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں وزیراعظم کو صادق اور امین نہ رہنے کی بنیاد پر نااہل کرنے کو بھی کہا تھا۔

اس فیصلے کے بعد سے وزیراعظم نواز شریف سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ کم از کم تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے تک مستعفی ہو جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: