کراچی : سندھ ہیلتھ کیئرکمیشن نے سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی ، تمام مشکلات و مسائل کے باوجود کمیشن کی کارکردگی مجموعی طور پر بہترین رہی۔
انتظامیہ کےمطابق آئندہ چند سالوں میں کمیشن صوبےکے صحت کے ڈیلیوری سسٹم میں بہتری لانےکیلئےاپنی جڑیں مضبوطی سےقائم کرلے گا۔ 2022میں کمیشن نےنجی و سرکاری اسپتالوں، کلینکس ،مطب اور میٹرنٹی ہومز کےمعائنے پر توجہ مرکوز رکھی جو صوبےکے 50 فیصد آبادی کی طبی ضروریات پوری کرتے ہیں۔
کمیشن کی انسپکشن ٹیموں نےطبی سہولیات کاجائزہ لینے کیلئے مسلسل طبی مراکزکامعائنہ کیااور سندھ سروس ڈیلوری اسٹینڈرڈ پرعملدرآمد پر 60 صحت کےمراکزکوعبوری لائسنس کااجراء کیا۔ چیف ایگزیکٹو آفیسرسندھ ہیلتھ کمیشن ڈاکٹراحسن قوی نےکہا کہ کمشن کےقیام کے بعدپہلی دفعہ اسپتالوں کو ریگولر لائسنس کےاجراءکیلئے سال 2022میں اسپتالوں کی انسپکشن کی گئی اور دس طبی مراکزکو باقاعدہ حتمی لائسنس جاری کئےگئے۔
ان میں ڈاؤ ڈینٹل اسپتال،ٹبّہ ہارٹ سینٹر، نیشنل میڈیکل سینٹر، آغاخان اسپتال،ضیاالدین اسپتال نارتھ ناظم آباداور کلفٹن اور دیگر شامل ہیں جبکہ سرکاری اسپتالوں میں لیاقت یونیورسٹی جامشورو اور حیدرآباد سندھ انسٹیوٹ آف اپتھامولوجی اینڈ ویژول سائنس،شہید بے نظیر بھٹو ٹراماسنٹر،غلام محمدمہرمیڈیکل کالج اسپتال سکھر چندنام شامل ہیں جن کو ریگولر لائسنس کے اجراء کاعمل مختلف مراحل میں ہے۔
اتائیوں کےخلاف کارروائیوں میں کمیشن نےمختلف اضلاع میں مہم چلائی ، انسداد اتائیت ڈائریکٹوریٹ نے 1025اسپتالوں وکلینکس کاانسپکشن کیااور 789اتائیوں کو کلینکس کو سیل کیا گیا، ٹیموں نے 2163فالواپ کئے، 2060کلینکس کو ری سیل کیاگیا جبکہ 1573مراکزکو تنبیہ نوٹس جاری کئے گئے ۔
976طبی مراکز کمیشن کے قوانین پر عملدرآمد کرتے پائےگئے۔ڈاکٹراحسن قوی کےمطابق کمیشن نے گزشتہ برس اتائیوں پر8.345ملین جرمانہ عائد کئے جس میں سے 5.910ملین وصولیاں ہوئیں ۔کمیشن نے 2022میں 479جنرل پریکٹیشنرز، 162طب یونانی مطب اور 285ہومیوپیتھک کلینکس کو کم ازکم سروس ڈیلوری اسٹینڈرڈکے تحت تربیت فراہم کی جبکہ پتھالوجیکل لیبارٹریز ،ڈینٹل ہیلتھ سروسز ، میٹرنٹی اینڈ فیملی پلاننگ اور ڈیجیٹل ہیلتھ سروس کے معیارات کے دستاویز مرتب کئے گئے جو منظوری کے آخری مراحل میں ہیں۔
