بول نیوز اور بول انٹرٹینمنٹ کے لائسنس منسوخ

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران اور منتظم ادارے پیمرا نے نجی ٹی وی چینل ‘بول’ اور بول انٹرٹینمنٹ کے لائسنس منسوخ کر دیے ہیں۔

ادارے کی جانب سے بدھ کی صبح جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ قدم وزارتِ داخلہ کی جانب سے ان چینلز کی مالک کمپنی لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز کو سکیورٹی کلیئرنس نہ دیے جانے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

کمپنی کے ڈائریکٹرز میں ایگزیکٹ گروپ اور بول گروپ کے مالک شعیب شیخ اور ان کی اہلیہ عائشہ شعیب کے علاوہ وقاص عتیق اور ثروت بشیر شامل ہیں۔

بول کی جانب سے تاحال اس اقدام پر کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم اس گروپ سے وابستہ سینیئر صحافی عامر ضیا نے ٹوئٹر پر پیغام میں اس اقدام کو حکومت کا حملہ قرار دیا ہے۔

پیمرا نوٹیفیکیشن کا عکس

ان کا کہنا ہے کہ ’نواز شریف حکومت نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزاد پریس کو آزادی صحافت کے دن نشانہ بنایا ہے اور یہ بول گروپ کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔‘

پیمرا کا کہنا ہے کہ لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ اتھارٹی کے اجلاس میں سندھ کی شکایات کونسل کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

پیمرا کے مطابق اس فیصلے پر فوری عملدرآمد ہوگا اور کیبل آپریٹرز کو بھی ان چینلز کی نشریات فوری طور پر روکنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں جن کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ ادارے کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ بول ٹی وی کے لائسنس کا معاملہ تنازع کا شکار ہوا ہو۔

گذشتہ برس بھی پیمرا نے ایگزیکٹ گروپ کے جعلی ڈگریوں کے سکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد اپنی شکایات کونسل کی سفارش پر ستمبر میں بول کا لائسنس معطل کر دیا تھا۔

بعدازاں سندھ ہائی کورٹ نے اس فیصلے کے خلاف بول کی اپیل پر حکمِ امتناع جاری کرتے ہوئے لائسنس بحال کر دیا تھا۔

لائسنس کی بحالی کے بعد بول نے باقاعدہ طور پر نشریات کا آغاز کیا تھا جبکہ اس کے دوسرے چینل بول انٹرنیمنٹ (پاک نیوز) نے چند ہفتے قبل ہی نشریات شروع کی تھیں۔

بول کی نشریات کے آغاز کے بعد بھی اس کے پروگرامز تنازعات کا شکار رہے ہیں اور پیمرا نے جنوری میں اس کے پروگرام ’ایسے نہیں چلے گا‘ پر ضابطہ اخلاق کی مختلف شقوں کی مسلسل خلاف ورزی کرنے پر پابندی لگائی تھی تاہم عدالتِ عالیہ نے اس پابندی کو بھی معطل کر دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: