کراچی : انسداد دہشتگردی عدالت نے اپوزیشن لیڈرسندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کوفائرنگ کے مقدمہ سے بری کردیا۔
پولیس نے ایم ڈی اے افسران پر فائرنگ کا الزام ثابت نہ ہونے پران کا نام ملزمان کی فہرست سے خارج کردیا، مقدمہ داخل دفتر کرکے اے کلاس چالان عدالت میں جمع کرادیاگیاجسے عدالت نے منظور کرلیا۔
چالان کے مطابق وقوعہ کے وقت حلیم عادل شیخ سندھ اسمبلی میں تھے، پی ایس 88 ضمنی انتخابات کے دوران ہنگامہ آرائی سمیت دہشتگردی کے دیگر مقدمات کی سماعت 4 مارچ تک ملتوی کردی گئی ۔
میڈیا سے گفتگو میں حلیم عادل شیخ نے کہا میرے خلاف نادرن بائی پاس پر فائرنگ کا مقدمہ بنایا گیا جوجھوٹا ثابت ہوگیا،پولیس تحقیقات میں ثابت ہوگیا کہ میں سندھ اسمبلی میں تھا،اس مقدمے کی بنیاد پر میری بیٹی کی شادی متاثر کی گئی۔
انہوں نے کہاکہ الزام لگانے والے اب عدالت میں بیان دینے نہیں آرہے،ایک کے بعد ایک جھوٹے کیس بنا رہے ہیں، کسی ایک مقدمے میں گواہ پیش نہیں کررہے۔
