داعش سے نمٹنے کے لیے امریکا، پاکستان اور افغانستان متحد

پاکستان، افغانستان اور امریکی افواج کے کمانڈرز کے مابین جنرلز ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں سیکیورٹی اجلاس ہوا۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ سہہ فریقی ٹو اسٹار سطح کا سیکیورٹی اجلاس جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہوا۔

بیان میں بتایا گیا کہ افغان عسکری وفد کی قیادت ڈی جی ایم او میجر جنرل حبیب کررہے تھے۔

دوسری جانب اتحادی افواج کے وفد کی قیادت ڈپٹی چیف آف اسٹاف میجر جنرل کرستوفر نے کی جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت ڈی جی ایم او میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کی۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سہہ فریقی اجلاس میں تینوں ممالک کی افواج نے داعش کو شکست دینے کیلئے اقدامات پر زور دیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ سہہ فریقی اجلاس کے بعد پاک افغان باہمی سیکیورٹی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان رابطے بڑھانے پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں دونوں ممالک کی فوج کے درمیان رابطے مزید بڑھانے اور تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق ہوا، اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ رابطے کمانڈ اور اسٹاف چینل کے ذریعے بڑھائے جائیں گے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں چمن واقعہ، سرحدی کنٹرول اور سرحد پار خلاف ورزیاں روکنے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

خیال رہے کہ رواں ہفتے بھی بلوچستان کے علاقے چمن میں مردم شماری ٹیم کو تحفظ فراہم کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں پر افغان بارڈر فورسز نے فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں 2 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 12 افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہوگئے تھے۔

بعد ازاں آئی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل ندیم انجم نے دعویٰ کیا تھا کہ پاک-افغان بارڈر پر افغان فورسز کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کا بھرپور جواب دیا گیا تھا جس میں 50 افغان فوجی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

جس کے بعد افغان سفیر عمر زاخیل وال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں آئی جی ایف سی کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ، ‘تمام پاکستانی اخبارات کی سرخیاں یہ کہہ رہی ہیں کہ چمن واقعے میں پاکستان نے 50 افغان فوجیوں کو ہلاک اور 100 کو زخمی کیا، یہ معلومات صرف پاک فوج اور ایف سی (سدرن کمانڈ) کی جانب سے فراہم کی گئیں، سچ تو یہ ہے کہ صرف 2 افغان فوجی شہید اور تقریباً 7 زخمی ہوئے’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: