اسحاق ڈار کا دورہِ امریکا:‌شکیل آفریدی کی رہائی پر بات چیت

کراچی (ویب ڈیسک)غدار وطن ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کے لئے ایک بار پھر امریکی دباﺅ بڑھ گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے حالیہ دورہ امریکہ کے موقع پر بھی ٹرمپ انتظامیہ نے شکیل آفریدی کی رہائی سے متعلق اپنا دیرینہ مطالبہ شدت سے دہرایا۔

واشنگٹن میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنے مخالفین کی جانب سے احتجاجی دباﺅ کو پس منظر میں دھکیلنے کیلئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد از جلد شکیل آفریدی کی رہائشی چاہتے ہیں۔ اگر ان کی یہ کوشش کامیاب ہوگئی تو اس سے انہیں زبردست سیاسی فائدہ حاصل ہوگا اور ان کے سیاسی مخالفین کو بھی اس پر ٹرمپ کی تعریف کرنی پڑ جائے گی کیونکہ شکیل آفریدی کی رہائشی ری پبلکن صدر ٹرمپ کی مخالف ڈیموکریٹک پارٹی کے متعدد سینئر رہنماﺅں کا بھی دیرینہ مطالبہ ہے۔

ذرائع کے مطابق بظاہر پاکستان ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی خارج از امکان قرار دے رہا ہے۔ رواں برس جنوری میں وزیر قانون زاہد حامد نے بھی پارلیمنٹ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ امریکی دباﺅ پر ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں تاہم مسلم لیگ ن کے اندرونی ذرائع نے بتایا ہے کہ اس ایشو پر ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ حکومت بات کرنے کی خواہشمند ہے تاکہ امریکہ کے ساتھ کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کی طرف بڑھاسکے۔

اس سلسلے میں قبل ازیں خارجہ امور پر وزیراعظم نواز شریف کے خصوصی مشیر طارق فاطمی کو امریکہ بھیجا گیا تھا، جنہیں ڈان لیکس ایشو پر اب اس منصب سے ہٹایا جاچکا ہے۔ ذرائع کے بقول پاکستان ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا راستہ قانونی پیرامیٹرز کے مطابق ہموار کرنا چاہتا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اسحاق ڈار کا حالیہ دورہ ا مریکہ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کے سلسلے کی کڑی تھی۔ا گرچہ اسحاق ڈار کے پاس وزارت خزانہ کا قلمدان ہے، تاہم خالصتاً خارجہ امور سے متعلق ایشوز پر ڈسکس کیلئے انہیں اس لئے منتخب کیا گیا کہ وہ وزیراعظم کے انتہائی قابل اعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ سرتاج عزیز یا قومی سلامتی کے خصوصی مشیر جنرل (ر) ناصر جنجوعہ کو اس معاملے سے دانستہ دور رکھا گیا۔ حالانکہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر سے اسحاق ڈار کی ملاقات شیڈول تھی۔

ذرائع کے مطابق 25 اپریل کو وائٹ ہاﺅس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر جنرل ایچ آر میک ماسٹر کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دیگر ایشوز کے علاوہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائش کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ جنرل میک ماسٹر کا کہنا تھا کہ امریکہ جلد از جلد شکیل آفریدی کی رہائی چاہتا ہے اور یہ کہ پاک امریکہ تعلقات میں جو حالیہ کشیدگی ہے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی اس کشیدگی کو کم کرنے میں پہلا اقدام ثابت ہوگی۔ ذرائع کے مطابق جواب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ اسے حل کرنے کے لئے پاکستان میں عوامی ردعمل کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا، لیکن اس کا مقصد یہ نہیں کہ حکومت پاکستان اس معاملے پر بات چیت نہیں کرنا چاہتی۔

ذرائع کے بقول اسحاق ڈار نے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کو یقین دلایا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کا پیغام اپنی اعلیٰ قیادت تک پہنچائیں گے، تاکہ غور وخوض کے بعد اس ایشو کا کوئی حل نکالا جائے۔

ذرائع کے مطابق تاہم اس بات چیت کے موقع پر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی یا اس کے بدلے شکیل آفریدی کی رہائی کی کوئی تجویز سامنے نہیں آئی۔ ٹرمپ انتظامیہ اور حکومت پاکستان کے نمائندوں کے درمیان یہ پہلی باقاعدہ سرکاری ملاقات تھی جس میں اسحاق ڈار کے ساتھ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری اور دفاعی اتاشی بھی موجود تھے۔ ملاقات میں اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا معاملہ بھی اٹھایا اور بھارت کے ساتھ پاکستان کے کشیدہ تعلقات بھی زیر بحث آئے۔

ادھر واشنگٹن میں موجود ذرائع نے امت کو بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ کے وکلا اس ملاقات کی تفصیلات حاصل کرنے کے لئے متعلقہ امریکی حکام سے رابطوں کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کراچی میں مقیم عافیہ کے اہلخانہ کو پیغام پہنچایا ہے کہ آج پیر کے روز وہ اس حوالے سے ہونے والی تازہ ڈویلپمنٹ سے آگاہ کریں گے۔ ذرائع کے مطابق عافیہ کے اہل خانہ تک بھی اس طرح کی اطلاعات پہنچی ہیں کہ اسحاق ڈار اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر جنرل میک ماسٹر کے درمیان ڈاکٹر شکیل آفریدی کے معاملے پر بات ہوئی ہے۔

اس کی تصدیق کے لئے عافیہ کی بڑی بہن ڈاکٹر فوزیہ نے ہفتہ اور اتوار کو وفاقی وزیر خزانہ سے ٹیلی فون پر رابطے کی متعدد کوششیں کیں، تاہم یہ رابطہ ممکن نہ ہوسکا۔ جب اس سلسلے میں ڈاکٹر فوزیہ نے اسحاق ڈار کے پی اے کو فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر کا موبائل فون باہر رکھا ہے اور وہ اندر اہم میٹنگ میں مصروف ہیں، جیسے ہی فارغ ہوں گے کال بیک کرادی جائے گی لیکن اتوار کی رات تک جوابی کال فوج موصول نہیں ہوئی تھی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اس سے قبل جب بھی ڈاکٹر فوزیہ کی جانب سے اسحاق ڈار کو کال کی گئی تو لازمی رسپانس ملتا تھا۔ اگر کبھی وفاقی وزیر خزانہ مصروفیات کی وجہ سے کال رسیو نہیں کرپاتے تھے تو رنگ بیک یا میسج کردیا کرتے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: