کراچی:قائدڈے کےحوالے سے سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے زیرِ اہتمام ”امیدصبحِ نو“ کے موضوع پرمصنف اور معروف سیاستداں جاویدجبارکے لیکچرکاانعقادکیاگیا ۔
جاوید جبارنےطلباءکو مخاطب کرتے ہوئےکہا کہ سرسید یونیورسٹی پاکستان کی ایک مستنددرسگاہ ہے جس نے اعلیٰ و معیاری تعلیم پر توجہ مرکوزکرتے ہوئے اکیڈمک سیکٹر میں ایک باوقار مقام حاصل کرلیا ہے۔یہ آپ سب ہی جانتے ہیں کہ کسی چیزکو برقراررکھنا، اسےحاصل کرنےسےزیادہ مشکل ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ کامیابی کارازقابلیت ہے،قابلیت کی بنیاد پرفیصلےکئےجانے چاہیے۔ہمیں اپنےمعاشرے میں میرٹ کےکلچرکوفروغ دینےکی ضرورت ہے،چین کی قابلِ ستائش ترقی کارازمیرٹ میں مضمر ہے جوکہ اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔برِصغیرکی تاریخ کاذکرکرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ ہندوستان میں مسلم اقتدارکازوال 1857کی جنگ آزادی میں شکست کے بعد شروع ہوا اور مغلوں کی حاکمیت کےخاتمے پرمکمل ہوا۔بعدازاں انگریزوں نےمسلمانوں کے خلاف انتہائی جارحانہ رویہ اپنایااور انہیں سیاسی اور معاشی طور پر بےدست و پاکردیا۔حالانکہ اس دور میں صنعتی انقلاب کاسورج طلوع ہورہا تھا۔
ایک نئی دنیاوجود میں آرہی تھی۔ایک نئی صبح نمودار ہورہی تھی۔زندگی، تعلیم اور ثقافت کا تصور یکسر تبدیل ہوچکا تھاتاہم مسلمان اپنے قدیم رسم و رواج کو تَرک کرنے پر آمادہ نہیں تھے اور نہ ہی وہ جدیدتعلیم حاصل کرنے کی جستجو کررہے تھے۔سرسیداحمد خان برصغیر کے وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مسلمانوں کی پستی کے اصل وجوہات کاادراک کیا۔انہوں نے مسلمانوں کی نازک صورتحال کا احساس کرتے ہوئے، انھیں جدید سائنٹفک تعلیم حاصل کرنے کے لیے قائل کیا۔
انہوں نے جدیدیت کی وکالت کی۔اسلام بھی جدیدیت کا اجاگر کرتا ہے۔کعبہ بتوں کاگھر تھا جہاں بتوں کی پوجا ہوتی تھی مگر حضور محمد ﷺ نےخانہ کعبہ کو مسمار نہیں کیا بلکہ برائی کی جڑ کو ختم کردیا،فطرت کو بدلنےکی بجائے سمت یا مقصد کو بدلنازیادہبہتر ہوتاہے۔
