Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
سندھی ادبی سنگت کے تحت ایک روزہ سیمپوزیم مناجات منعقد | زرائع نیوز

سندھی ادبی سنگت کے تحت ایک روزہ سیمپوزیم مناجات منعقد

کراچی: سندھی ادبی سنگت پپری برانچ ملیر کی جانب سے ملیر پریس کلب میں ایک روزہ سیمپوزیم مناجات اور مداحات جس میں لوک ادب کی تاریخی موضاعات، صنفن جس میں مولود ، منقبت، مرثیہ پر سیمپوزیم منعقد کیا گیا۔

صدارت انجینئر عبدالحسین موسوی کی،سیمپوزیم کی شروعات سے پہلے ملیربرانچ کی نو منتخب باڈی کا اعلان ضلع رابطہ سیکریٹری غنی کاندھڑو نے کی، سیمپوزیم میں شاعر، مداح ، منقبت اور مرثیہ کی صنف پر اپنی شاعری پیش کی ، عبدالحسین موسوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ درد اور غم قدیم زمانے سے انسان کے ساتھ رہا ہے ،مرثیہ کی تاریخ انسان کی شروعاتی دور سے ملتی ہے ، مظلوم سے اپنے محبت کا اظہار اپنی ثابت قدمی ،بہادری اور قربانی کو بیان کیا جائیگا۔

سندھ میں مرثیہ غلام شاہ کلہوڑو کے دور سے شروع ہوئی ، شاہ لطیف ، سچل سرمست، سید ثابت علی کربلائی، خلیفو نبی بخش، خلیفہ محمد صدیق سمیت سینکڑوں شاعروں نے مرثیہ لکھا ہے ، پروفیسر بیدار جعفری نے کہا کہ مرثیہ ، مولود(نعت) کو اردو ادیبوں نے قدر کرتے ترقی دلائی ہے،بدقسمتی سے ہمارے ادیب اور سندھی ادبی سنگت مولود، منقبت اور مرثیہ سمیت دیگر موضاعاتی صنفوں کی سرپرستی کرنے پر ان صنفوں پر لکھنے والوں کو مدد کرنی چاہیے۔

سندھی ادبی سنگت کے سیکریٹری پروفیسر ریاض مہدی خاصخیلی نے کہا کہ مناجات اور مداحوں ، مولود (نعت) منقبت اور مرثیہ کے موضوع کو اجاگر کرنے کیلئے ادبی فرض ہے ، لوک ادب کی سرپرستی سندھی زبان کی حقیقی خدمت ہے ، سال 2023 میں شاعری ہر صنف تاریخ اور عظیم کرداروں فن فکر پر سیمنیار لیکچر شخصیات پر نفیس فاطمہ نے کہا کہ فکری ادبی قافلے میں عورت کو لایا جائے ، کربلا کی زینبی کردار ہمارے حقوق کی حاصلات میں تحریک کی کامیابی کیلئے عورت کا متحرک پاکیزہ کردار لازم اور مظلوم ہے ۔

اس موقع پر امداد حسین خشک، مداح سبنگار، منظور حسین سومرو، عاجز کربلائی، نصر اللہ ناز ابڑو، عنایت اللہ قریشی، بابو امیر، محمد مہدی، پنہل خان مگسی، سرفراز سومرو ، پروفیسر سجاد علی چنہ، لطیف کا کلام تمبورہ پر پیش کرکے محفل میں لطیفی رنگ بھکیر دیئے ، اصغر باغی ، شبیر لاکھو، کاشف جنڈان، اصغر عادل، الطاف جلبانی، اور دیگر ادبی دوستوں سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔