ڈاٸریکٹر قومی ادارہ براٸے صحت اطفال نے اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کی دھجیاں بکھیر دیں، من پسند اور رشوت دینے والے بھرتی کر لیے گٸے۔
گریڈ 7 والے چہیتے گریڈ11، گیارہ کے چہیتوں کو گریڈ 16 اور گریڈ 16 کے چمچوں کو گریڈ 17 میں پروموشن دیدی گٸی، اندھیرنگری چوپٹ راج
کراچی (انویسٹی گیشن رپورٹ وضاحت نیوز) قومی ادارے این آٸی سی ایچ میں خلاف ضابطہ نٸی بھرتیوں اور ترقیوں کا انکشاف، رشوت کا بازار گرم، سینٸر ملازمین اندھیرنگری اور حق تلفی سے اذیت میں مبتلا، کوٸی پرسان حال نہیں۔
تفصیلات کے مطابق قومی ادارہ صحت اطفال میں چند روز قبل عدالتی فیصلے کے برخلاف انٹرویوز رکھے گئے جس میں سیکٹریز سندھ حکومت، سیکشن افسر ڈی ایم اور خود ساختہ ڈائریکڑ این آٸی سی ایچ پروفیسر جمال رضا نے انٹرویوز لیے انٹرویو لینے والوں میں پروفیسر جمال رضا کے چہیتے گریڈ 7 کے ٹیلیفون آپریٹر کو بھی بٹھایا گیا جو انتہاٸی غیرمناسب عمل ہے جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر این آٸی سی ایچ ڈاکٹر ارشد حسین ڈومکی کو سلیکشن کمیٹی سے جان بوجھ کر دور رکھا گیا، ان کا کمیٹی میں شامل ہونا ناگزیر تھا۔
ایمپلائز اور انٹرویوز کے لیے آٸے امیدواروں نے نمائندہ وضاحت نیوز کو فریاد کرتے ہوٸے بتایا کہ ملازمت کے حصول کے لیے1 سے ڈیڑھ لاکھ روپے رشوت لی جا رہی ہے اور زیادہ تر اپنے من پسند افراد کو بھرتی کیا جا رہا ہے۔18ویں ترمیم کے بعد قومی ادارے این آٸی سی ایچ، این آٸی سی وی ڈی اور جے پی ایم سی صوبوں کو منتقل کر دیئے گئے تھے جبکہ 2015 میں سندھ ہائی کورٹ کے لاجر بنچ نے ایمپلائز کی جانب سے داٸر پٹیشن نمبر 1692/2011 کا فیصلہ ایمپلائز کے حق میں دیا۔
ایمپلاٸز نے کہا کہ 16 جنوری 2019 کو سابق چیف جسٹس آف سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے بھی لاجر بنچ میں این آٸی سی ایچ، این آئی سی وی ڈی اور جے پی ایم سی کو فیڈریشن کے کنٹرول میں دے کر صوبائی اور وفاقی گورنمنٹ کو 3 ماہ میں ہینڈنگ ٹیکنگ کا حکم صادر کیا، اس ججمنٹ اور سابقہ اسٹے آرڈر کی روشنی میں نہ تو 8 سال میں پروموشنز کی گئیں اور نہ ہی نٸی بھرتیاں کی گئیں لیکن ڈائریکڑ این آئی سی ایچ پروفیسر جمال رضا اور ڈاٸریکٹر این آئی سی وی ڈی پروفیسر ندیم قمر نے سپریم کورٹ کے حکم نامے کو پیروں تلے روندتے ہوئے کنٹیمپٹ آف کورٹ کیا اور من پسند افراد کو گریڈ 7 سے گریڈ 11 اور گریڈ 11 کے لوگوں کو گریڈ 16 اور گریڈ 16 کے چمچوں کو گریڈ 17 میں پروموٹ کردیا گیا جبکہ اس ضمن میں ایمپلائز کی جانب سے این آٸی سی ایچ اور سندھ سرکار کو سندھ ہائی کورٹ سے نوٹس بھی بھجواٸے گئے تھے لیکن سندھ سرکار این آٸی سی ایچ اور این آئی سی وی ڈی میں مسلسل بھرتیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور مسلسل اپنے من پسند لوگوں کو نوازا جارہا ہے۔
باخبر ذراٸع کا کہنا تھا کہ پروفیسر جمال رضا اور پروفیسر ندیم قمر کو سندھ سرکار کی مکمل حمایت حاصل ہے، نیب کی طرف سے این آٸی سی وی ڈی اور این آٸی سی ایچ میں آمدنی سے زائد اثاثوں سمیت بجٹ کے غلط استعمال کے حوالے سے انکواٸریاں چل رہی ہیں جس کے باعث مذکورہ دونوں ڈاٸریکٹرز نیب سندھ کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ اب ایسے میں غیرقانونی بھرتیاں کی جاٸیں اور ترقیاں دی جائیں تو یہ توہین عدالت ہونے سمیت وزیراعظم عمران خان کے لیے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کیونکہ عمران خان ہر پلیٹ فارم پہ میرٹ کی بات کرتے ہیں۔
نمائندہ کو بتایا گیا کہ عدالتی فیصلے کے بعد سندھ کے مذکورہ اسپتال نہ ہی کسی کو بھرتی کرسکتے ہیں اور نہ ہی ترقی دے سکتے ہیں۔ درخواست گزار اور متاثرہ ایمپلائز نے نمائندے کو بتایا کہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جسٹس آصف سعید کھوسہ، وزیراعظم عمران اور وفاقی وزیر صحت فوری طور پر اس غیرقانونی بھرتیوں اور ترقیوں کا نوٹس لیں۔ انکوائری کرنے سمیت دونوں ڈائریکٹرز کو فل فور تبدیل کرنے کیساتھ وفاق سے ڈائریکٹرز بھیجے جائیں۔
پروفیسر جمال رضا اور پروفیسر ندیم قمر کے بینک اکاؤنٹس سمیت پراپرٹی کا فرانزک آڈٹ کروایا جائے لوکل اور انٹرنیشنل بینک اکاٶنٹس چیک کیئے جائیں، یہی نہیں ان کے رشتہ داروں اور بیگمات کی پراپرٹی کا بھی (FBR) سے ریکارڈ طلب کیا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاٸے گا۔
ایک اور خبری نے کہا ہے کہ این آٸی سی وی ڈی اور این آٸی سی ایچ میں جن سرجیکل، میڈیکل کمپنیز بشمول این آئی سی ایچ ٹرسٹ اور این آئی سی وی ڈی ٹرسٹ کا ریکارڈ طلب کر کے فرانزک آڈٹ کروانےکیساتھ نیب اور ایف آٸی اے سے انکوائری کروائی جائے۔ پروفیسر جمال رضا اور پروفیسر ندیم قمر من پسند میڈیکل کمپنیز کو خلاف ضابطہ کروڑوں کا بزنس دینے کیساتھ ٹینڈر کی صورت میں کٸی گناہ کمیشن بھی لیتے ہیں جبکہ انہیں بیرون ممالک کے ٹرپس بھی لگواٸے جاتے ہی۔ نمائندے نے این آٸی سی وی ڈی اور این آٸی سی ایچ کے ڈائریکٹر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ملاقات نہ ہوسکی اور پی اے صاحبان نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ صاحب مصروف ہیں آپ کل آٸیں۔ باقی تفصیل اگلے شمارے میں شاٸع کی جاٸے گی۔
