Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کابل:فوجی اڈے کے باہر دھماکہ،10 افغان شہری جاں بحق ،متعدد زخمی | زرائع نیوز

کابل:فوجی اڈے کے باہر دھماکہ،10 افغان شہری جاں بحق ،متعدد زخمی

کابل :کابل میں فوجی ہوائی اڈے کے قریب دھماکے میں 10 شہری جاں بحق اورمتعدد زخمی ہوگئے ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ترجمان طالبان عبدالنافع تکور کے مطابق گزشہ صبح فوجی ہوائی اڈے کے باہر دھماکہ ہوامقامی افراد کے مطابق صبح 8 بجے کے قریب زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی۔

سکیورٹی فورسز نے علاقے کو سیل کر دیا اور تمام سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔رابطہ عالم اسلام کے سیکرٹری جنرل اور مسلم سکالرز کی انجمن کے سربراہ محمد العیسی نے کہا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے خواتین کے غیر سرکاری اداروں میں کام کرنے پر پابندی کا فیصلہ ناقابل قبول ہے اور اسلام کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

افغانستان کی سابق حکومت کے ایک عہدیدار اور سابق وزیر برائے دعوت و ارشاد اور حج و اوقاف محمد قاسم حلیمی نے طالبان کی طرف سے لڑکیوں کو تعلیم دینے پر پابندی پر کڑی تنقید کی ہے دوسری جانب افغان معلم نے خواتین پر عائد پابندی کے خلاف جدوجہد کا اعلان کیا ہے ۔

عبدالنافی تکور نے بتایا کہ کابل ملٹری ایئرپورٹ کے باہر دھماکے میں ہمارے متعدد بے گناہ عام شہری شہید اور زخمی ہوئے متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے ،سکیورٹی فورسز کی جانب سے مشتبہ افراد کی گرفتاری کےلیے علاقے میں سرچ آپریشن کیا جارہا ہے۔ رابطہ عالم اسلام کے سیکرٹری جنرل اور مسلم سکالرز کی انجمن کے سربراہ محمد العیسی نے کہا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے خواتین کے غیر سرکاری اداروں میں کام کرنے پر پابندی کا فیصلہ ناقابل قبول ہے اور اسلام کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری نے ٹوئٹ ذریعے کہا کہ ہم رابطہ عالم اسلامی میں غیر سرکاری تنظیموں میں کام کرنے والی خواتین پر طالبان کی طرف سے عائد پابندی کے اثرات کو گہری تشویش سے دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس طریقہ کار پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں جسے شریعت نے مسترد کیا ہے۔ اس سے افغان عوام کو ٹھیس پہنچی ہے اس سے ان لوگوں میں اسلام کی ساکھ مجروح ہوتی ہے جو ہمارے حقیقی مذہب کی حقیقت کو نہیں جانتے۔

طالبان نے گذشتہ چند دنوں کے دوران ملک میں کام کرنے والی امدادی اور انسانی بنیادوں پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں میں کام کرنے والی خواتین پر پابندی عائد کی تھی اور ساتھ ہی لڑکیوں کو یونیورسٹی جانے سے بھی روک دیا تھا۔ ان فیصلوں کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی