کراچی: سندھ میں پولیس زیادتیوں کے شکارلوگوں کی داد رسی کیلئے قائم سندھ پبلک سیفٹی اینڈ پولیس کمپلینٹس کمیشن غیرفعال ہونے سے پولیس احتساب کا نظام فعال نہیں ہوسکا۔
عام شہریوں کو ایف آئی آرکے اندراج،اختیارات سے تجاوزاورہراساں کرنے سمیت پولیس کیخلاف دیگر شکایات پرفراہمی انصاف کا معاملہ التوا کا شکارہوگیا،سندھ پبلک سیفٹی اینڈ پولیس کمپلینٹس کمیشن کا طویل مدت سے اجلاس نہ ہونیکی وجہ سے کمیشن کو پولیس کی جانب سے فرائض میں غفلت، اختیارات سے تجاوز،رشوت ستانی،شارٹ ٹرم کڈنیپنگ اوراراضی پرقبضہ کرنیوالوں کی پشت پناہی سمیت دیگرالزامات کے تحت 3 ہزار سے زائد عوامی شکایات پرتاحال کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی۔
کمیشن کو اپنے قیام سے اب تک موصول ہونے والی شکایات کی تعداد 7600 ہوگئی،متعمد ترین ذرائع کا کہنا ہے سندھ پبلک سیفٹی اینڈ پولیس کمپلینٹس کمیشن کا اجلاس نہ ہونیکی وجہ سے سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران کیخلاف 35 سے زائد انکوائریزمیں الزامات ثابت ہونے کے باوجود تاحال کوئی کارروائی نہیں کی جاسکی جبکہ جنوری 2021 سے اب تک صوبائی پبلک سیفٹی اینڈ پولیس کمپلینٹس سیل کو موصول 3 ہزارسے زائد شکایات پرمتاثرین کو فراہمی انصاف اورپولیس زیادتیوں سے متاثرہ افراد کی داد رسی کیلئے فراہمی انصاف کی کارروائی نہیں کی گئی۔
سندھ پبلک سیفٹی اینڈ پولیس کمپلینٹس کمیشن میں گریڈ 18 سے گریڈ 21 کے 35 افسران کیخلاف ابتدائی تحقیقات میں ٹھوس شواہد ملنے کے باوجود کمیشن اپنے قیام سے اب تک کسی ایک پولیس افسرکا محاسبہ کرنے یاجواب طلبی کا کوئی فیصلہ نہیں کرسکا جبکہ کئی پولیس افسران ریٹائرہوچکے ہیں۔
