کراچی،سیہون شریف: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حلقہ بندیوں سے متعلق ایم کیو ایم کا اپنا موقف ہے، خالد مقبول صدیقی اور گورنر کا بیان نہیں سنا، ایم کیو ایم کا موقف الیکشن کمیشن کے سامنے رکھا ہے، الیکشن کمیشن جو فیصلہ کرے گا عمل کریں گے،تاجروں،ہوٹل مالکان سے بات چیت ہوئی،،شہروں،دیہات میں بجلی کی بچت ضروری ہے،ہمیں کمر کسنی ہوگی۔
محکمہ صحت کو ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سر کاواسجی جہانگیر یونیورسٹی سائیکاٹری اینڈ بیہیویورل سائنس حیدرآباد کے قیام کے حوالے سے کسی بھی معروف بین الاقوامی سائیکاٹری یونیورسٹی سے مدد لیں۔
انہوں نے کہاکہ سر کاواسجی انسٹی ٹیوٹ 150 سال سے زیادہ پرانا ہے اور یہ ایک معروف انسٹی ٹیوٹ رہا ہے جہاں دیگر ممالک سے مریض علاج کے لیے آتے تھے جوکہ ملک کی ایک بہترین یونیورسٹی ہونے کا مستحق ہے۔
مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہائوس میں اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو، پارلیمانی سیکریٹری قاسم سومرو، چیئرمین سندھ مینٹل اتھارٹی ڈاکٹر کریم خواجہ، چیف سیکریٹری سہیل راجپوت، چیئرمین پی اینڈ ڈی حسن نقوی، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری فیاض جتوئی، سیکریٹری صحت ذوالفقار شاہ، کمشنر حیدرآباد بلال میمن نے شرکت کی۔
وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے وزیراعلیٰ سندھ کو انسٹی ٹیوٹ کو یونیورسٹی کے طور پر اپ گریڈ کرنے کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ میں قائم اسپتال اور دیگر متعلقہ شعبوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا اور بہترین فیکلٹی ممبران کی تقرری عمل میں لائی جائے گی ۔چیئرمین سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر کریم خواجہ نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ 27 ایکڑ رقبے پر محیط ہےجو کہ یونیورسٹی کے قیام کے حوالے سے مناسب ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ کی پرانی عمارت ورثہ کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے اس کی حفاظت اور تزئین و آرائش کی جائے۔
مراد علی شاہ نے پی اینڈ ڈی اور محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ وہ مل کر یونیورسٹی کے لیے پی سی ون تیار کریں اور یونیورسٹی کا چارٹر بھی تیار کرلیا جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ وہ سائیکاٹری کی کسی بھی بہترین بین الاقوامی یونیورسٹی سے رابطہ کریں اورسرکاواسجی یونیورسٹی کے قیام کے لیے ان کی مدد حاصل کریں تاکہ اسے ملک کی بہترین یونیورسٹیوں میں سے ایک بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ ضروری دستاویزات کی تکمیل کے لیے فالو اپ اجلاس منعقد کرتے رہیں گے۔
