Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
ایم کیوایم کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں، بلاول، تحریک طالبان پاکستان کو فتنہ کہہ دیا | زرائع نیوز

ایم کیوایم کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں، بلاول، تحریک طالبان پاکستان کو فتنہ کہہ دیا

دادو: وزیر خارجہ اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے ساتھ معاہدہ ہے ساتھ لے کر چلنے کو تیار ہیں لیکن بار بار بلدیاتی انتخابات کے التوا پر پارٹی میں کچھ تحفظات ہیں ۔

بلاول نے تحریک طالبان افغانستان ایک حقیقت اور تحریک طالبان پاکستان فتنہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہمیں امپورٹڈ کہنے والا خود دہشت گردی کو امپورٹڈ کہہ رہا تھا، عمران خان جمہوری سیاستدان بنیں اور پارلیمنٹ میں آکر بیٹھیں۔

دادا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں سانحہ اے پی ایس میں ملوث دہشتگردوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا، میں اس وقت بھی اسے بےوقوفانہ عمل قرار دے رہا تھا، ہم پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کر چکے تھے، جنگ جیتنے کے بعد کون ایسے فیصلے کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کابل میں جو کچھ ہوا اس کی ایک تاریخ ہے، تحریک طالبان افغانستان ایک حقیقت ہے، تحریک طالبان پاکستان ایک فتنہ ہے، ان کا مقابلہ کرکے ہم انہیں شکست دے چکے تھے، مگر ہم نے یہاں سے بھی ان کے قیدی رہا کردیے اور ان کے افغانستان میں موجود قیدی رہا ہوئے تو ہم نے ان کی بھی پاکستان میں میزبانی کی پیشکش کی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان کہتا ہے کہ ہمیں 50 ہزار جنگجو ئوں کو پاکستان میں بسانا تھا، ہمیں امپورٹڈ کہنے والا خود دہشت گردی کو امپورٹڈ کہہ رہا تھا، یہ عمران خان کا سب سے بڑا جرم ہے، خیبرپختونخوا میں ان کی ناک کے نیچے دہشتگرد پروان چڑھ رہے ہیں لیکن انہوں نے اس معاملے کو چھپانے کی کوشش کی، وہاں پی ٹی آئی کے نمائندے طالبان کو بھتہ دے رہے ہیں یعنی وہ ان کو پیسہ دلوا رہے ہیں، عمران خان کے اس فیصلے کی وجہ سے آج پاکستان اس صورتحال میں ہے جہاں دہشتگردی ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ ہم عمران خان کی پالیسی نہیں مانتے، ہم پاکستان میں آئین کی رٹ قائم کریں گے، ہم دہشتگردوں کے خلاف ایکشن لیں گے، پرامن لوگوں کے لیے سو بسم اﷲ لیکن دہشتگردوں کو میں، حکومت یا عوام کوئی بھی ماننے کو تیار نہیں ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان قبل از وقت انتخابات کی خواہش تو بہت زیادہ رکھتے ہیں لیکن ہر موقع پر وہ ناکام ہوچکے ہیں، 2 بار لانگ مارچ نکال کر وہ قبل از وقت انتخابات کروانے کا دعویٰ کررہے تھے لیکن اس میں وہ ناکام ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی قبل از وقت انتخابات کی ضد ابھی تک پوری ہوتی نظر نہیں آرہی کیونکہ جب اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کا وقت آتا ہے تو ان کی پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک جیسے لوگ غائب ہوجاتے ہیں، دیگر کئی اراکین بھی اپنے استعفیٰ نہ قبول کرنے کے لیے اسپیکر کے پائوں پکڑ رہے ہیں۔

ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان مذاکرات سے متعلق سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر کافی چیزیں حاصل کی ہیں، کئی معاملات پر اختلاف رہے ہیں اور آگے بھی ہوں گے لیکن میں چاہتا ہوں کہ ہم اختلافات کے بجائے ان چیزوں پر کام کریں جس میں ہمارے خیالات ملتے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ایم کیو ایم کے ساتھ معاہدہ تھا اور ہم چاہتے ہیں کہ اسی معاہدے کے تحت ہم آگے چلیں کہ بلدیاتی نظام جتنا مضبوط بنا سکتے ہیں بنائیں، دیگر معاملات پر بھی ہم بات کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم میری پارٹی کے کچھ لوگوں کو یہ تحفظات ہیں کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات کئی بار ملتوی ہو چکے ہیں، سیاسی نقصان کی فکر نہیں لیکن اس کی وجہ سے انتظامی امور متاثر ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سمیت تمام جماعتوں کے ساتھ ہم چلنے کو تیار ہیں، ہمیں محض بلدیاتی انتخابات میں ’تاحیات تاخیر‘ پر اعتراض ہے جس پر ہم بات چیت کرتے رہیں گے۔