بتاریخ: یکم نومبر 2018 کی اہم خبریں
آسیہ مسیح کی بریت، ملک بھر میں احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا، کل جمعے کو تمام مذہبی جماعتوں نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کردیا، ملک بھر میں سرکاری و تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
—-
حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کی کوشش ناکام ہوئی، خادم رضوی نے آگاہ کیا کہ ’صوبائی و وفاقی حکومتوں کے نمائندگان اور جنرل فیض مذاکرات کے لیے آئے مگر کوئی پیشرفت نہ ہوئی‘۔
—-
تحریک لبیک کے رہنما کا کہنا تھا کہ ’حکومتی وفد کے لوگوں نے ناکامی کے بعد مجھے ’بھوننے‘ کی دھمکی دی، خادم رضوی نے تمام کارکنان کو اپیل کی کہ وہ تیار رہیں ہم کسی صورت نہیں جھکیں گے۔ حکومت نے مظاہرین کو ایک بار پھر متنبہ کیا کہ وہ پرامن احتجاج کریں اور ریاست کی رٹ کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔
—-
وزیراعظم عمران خان چین کے سرکاری دورے پر روانہ ہوئے جہاں وہ مختلف منصوبوں پر دستخط کریں گے۔
—-
فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت ہوئی جس میں جے آئی ٹی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نوازشریف کے خلاف شواہد نہ مل سکے۔
—-
نیب لاہور نے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز جبکہ نیب سندھ نے سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو طلب کرلیا۔
—-
ڈی جی رینجرز سندھ نے کہا کہ ’پورے ملک میں دھرنا جاری ہے، اگر مظاہرین امن و امان کی صورتحال خراب کریں گے تو کارروائی ہوگی تاہم ابھی تک کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی جس کی بنیاد پر کارروائی عمل میں لائی جائے۔
—-
سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ ’اگر فالودے والے کے پاس رقم میں نے رکھوائی تو اُس پر اعتراض کیوں ہے، مجھے گرفتاری سے ڈر نہیں لگتا جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار کرنا ہے تو کرلیں میں مشہور ہونا چاہتا ہوں‘۔
—-
سابق کپتان اظہر علی نے ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے ٹیسٹ فارمیٹ میں کھیل جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
—-
بلاول بھٹو نے عمران خان کو پیش کش کی کہ موجودہ ملکی صورتحال پر وزیراعظم قدم بڑھائیں ہم اُن کا بھرپور ساتھ دیں گے، کسی کو ریاست کی رٹ چیلنج کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
—-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو لاہور ہائی کورٹ میں چلینج کیا گیا جبکہ آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے پر بھی سنی اتحاد کونسل نے عدالت میں پٹیشن جمع کروائی۔
—-
سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان سمیت 65 افراد کو بنی گالہ کی تعمیرات ریگولائز کرنے کا حکم دیا۔
—-
معطل آئی جی اسلام آباد نے عدالتی حکم کے بعد ملائشیا سے واپس آکر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
—-
وزیرخارجہ کی ازبک ہم منصب سے ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات اور تجارتی معاہدوں کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔
—-
آسیہ بی بی بریت کیس پر چیف جسٹس نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’فیصلہ کرنے والے ججز عشق رسول سے سرشار ہیں، کسی کو اس حوالے سے کوئی شک نہیں ہونا چاہیے‘۔
—-
انڈونیشیا، سمندر میں گر کر تباہ ہونے والے جہاز کا بلیک باکس مل گیا، حادثے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے جن میں سے صرف 6 کی لاشیں نکالی جاسکیں۔
—-
گوادر میں گزشتہ روز فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے 5 مزدوروں میں سے 2 کا تعلق کراچی سے تھا جن کا نماز جنازہ اورنگی ٹاؤن میں ادا کیا گیا، جنازے میں ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت نے شرکت کی۔
—-
نئی کراچی سیکٹر 5-E میں گزشتہ روز ہونے والے تصادم کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے تحریک لبیک کے کارکنان کا نماز جنازہ ادا کیا گیا، گزشتہ روز فائرنگ سے 17 افراد زخمی جبکہ 3 ہلاک ہوئے تھے۔
—-
تحریک انصاف نے اعلان کیا کہ آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے یا عدالت میں دوبارہ درخواست دائر کرنے سے پی ٹی آئی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
—-
متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 8 نومبر کو کراچی میں ملین مارچ کرنے کا اعلان کیا۔
—-
وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے انکشاف کیا کہ ’حکومت کے پاس منی لانڈرنگ کے حوالے سے درست تفصیلات موجود نہیں، مفروضے کی بنیاد پر کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکتی‘۔
—-
چیف جسٹس آف پاکستان نے عندیہ دیا کہ وہ آئندہ کسی بھی مقدمے کی سماعت کے دوران ڈیم فنڈ کی بات نہیں کریں گے، یہ بات انہوں نے قانون دان نعیم بخاری کی جانب سے طنز کرنے پر کی۔
—-
ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 11 کروڑ 13 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی، اسٹیٹ بینک نے اس ضمن میں ہفتہ وار رپورٹ جاری کی جبکہ اسٹاک ایکسچینج میں مثبت کاروبار دیکھنے میں آیا، انڈیکس 60 پوائنٹس اضافے پر بند ہوا۔
