ایم کیو ایم پاکستان نائن زیرو لینے سے خوفزدہ

کراچی: اقوام متحدہ کی ٹیم کے دورے کے بعد مقتدر حلقے ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کو نائن زیرو سمیت تمام دفاتر دینے پر رضا مند ہے فاروق ستار اور اُن کے رفقاء اپنے پرانے مرکز جانے سے گھبرا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے کراچی آپریشن سے متعلق مسلسل شکایات کے بعد اقوام متحدہ کی ٹیم نے نائن زیرو کا دورہ کیا اور خورشید میموریل ، ایم پی اے ہاسٹل سمیت دفاتر کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اقوام متحدہ کی آمد سے قبل مقتدر حلقوں نے فاروق ستار اور اُن کے رفقاء کو نائن زیرو سمیت تمام دفاتر دینے کی رضا مندی ظاہر کردی گئی تھی کی جس کی بنیاد پر انہوں نے عارضی مرکز پی آئی بی سے بہادر آباد منتقل کرنے میں بھی دیر کی۔

طویل مشاورت اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان نے اپنے مینڈیٹ اور پزیرائی کو جانچنے کے لیے کراچی حقوق کے نام سے ریلی نکالنے کا اعلان کیا تاکہ زمینی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئےمستقبل کا فیصلہ کیا جائے۔

گزشتہ اتوار 23 اپریل کو منتقد ہونے والی ریلی کے نتائج دیکھ کر قیادت میں آپسی اختلافات پیدا ہوگئے ہیں، تنظیمی سیٹ اپ سنبھالنے والے ڈپٹی کنونیئر کا خیال ہے کہ ریلی میں نعرے لگانے کی پلاننگ سربراہ اور دیگر اراکین اسمبلی نے خود کی۔

ریلی میں شریک ہونے والے شرکاء کی جانب سے بانی ایم کیو ایم کے حق میں نعرے بازی اور ماضی کو دیکھتے ہوئے پی آئی بی قیادت نے نائن زیرو لینے سے انکار کردیا، کیونکہ اُن کا خیال ہے کہ مرکز بحال ہوتے ہی بانی تحریک کے کارکنان کی بڑی تعداد وہاں پہنچ جائے گی اور پھر انہیں رسوا ہونا پڑ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: