کراچی: سی ویو پرسمندرمیں چھلانگ لگا کرمبینہ طورپرخود کشی کرنے والی 23 سالہ ڈاکٹر سارہ ملک نامی خاتون کی موت جنسی ہراسانی کا شاخسانہ نکلا۔
سارہ کی لاش مل گئی، جنسی ہراسانی کے الزام میں ویٹرنری ہسپتال سے 2 ملزمان کو گرفتارکرلیا گیا،مقتولہ کے والد کی شکایت پرواقعہ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ایس ایس پی ساؤتھ سید اسد رضا کا کہنا ہے کہ سی ویو پر چھلانگ لگا کر ڈوبنے والی 23 سالہ لڑکی کو ویٹرنری ہسپتال کے مالک نے مبینہ طور پر جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جس کے بعد لڑکی نے مبینہ طور پرسمندرمیں چھلانگ لگا کرخودکشی کرلی۔
پولیس نے جانوروں کے ہسپتال پر چھاپہ مارا جہاں لڑکی کام کرتی تھی، جس کے بعد ملزم سمیت عملے کے ایک اور شخص کو گرفتارکیاگیا جبکہ مقتولہ کے والد کی شکایت پرساحل پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
23 سالہ لڑکی نے 6 جنوری کو فرحان شہید پارک کے قریب سی ویو پر سمندر میں چھلانگ لگا کرخود کشی کرلی تھی۔
پولیس کے مطابق گرفتار مالک کے کمرے سے ٹشو، بال اور مانع حمل ادویات برآمد ہوئی ہیں،ہسپتال کے مالک نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے لڑکی کے ساتھ گزشتہ دو سال سے جنسی تعلقات تھے۔
گرفتار ملزم کو اغوا اور دیگر دفعات کے تحت مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ڈاکٹرسارہ ملک دختر ابرار احمد محمود آباد اعظم بستی کی رہائشی تھی۔
