Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
پرویز الہی کو 24 گھنٹوں میں 186 ارکان کی حمایت ظاہر کرنی ہوگی , لاہور ہائیکورٹ | زرائع نیوز

پرویز الہی کو 24 گھنٹوں میں 186 ارکان کی حمایت ظاہر کرنی ہوگی , لاہور ہائیکورٹ

لاہور : لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلٰی کو عہدے سے ہٹانے کے کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعلٰی کے پاس 24 گھنٹے 186 ارکان کی سپورٹ ہونی چاہیے۔

رپورٹس کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں وزیراعلٰی کو عہدے سے ہٹانے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

جسٹس عابد عزیز شیخ نے گورنر کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا اعتماد کے ووٹ سے متعلق معاملہ حل نہیں ہوا؟ وکیل نے عدالت میں جواب دیا کہ اعتماد کا ووٹ لیں گے تو معاملہ حل ہوجائے گا۔

جسٹس عابد عزیز شیخ نے استفسار کیا کہ خالد اسحاق معاملے سے متعلق کیا کہتے ہیں؟ جسٹس عابد عزیز شیخ نے خالد اسحاق سے مکالمہ کیا کہ آپ نے تحریری طور پر عدالت کو بتانا ہے۔ وکیل گورنر پنجاب نے کہا کہ اس وقت ہم نے کہا تھا کہ 4 سے 5 دن دینے کے لیے تیار ہیں،جسٹس عابد عزیز شیخ نے سوال کیا کہ گورنر پنجاب کے وکیل نے کیا آفر دی ہے؟ وکیل خالد اسحاق نے بتایا کہ ہم نے آفر دی تھی کہ 3 سے 4 دن میں اعتماد کا ووٹ لیں،ہماری آفر نظر انداز کردی گئی۔جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دئیے کہ منظور وٹو کیس میں بھی 2 دن کا وقت دیا گیا تھا جو مناسب نہیں تھا،اب تو 17 دن ویسے بھی گرز چکے ہیں اور کتنا مناسب وقت چاہیے؟ عدالت نے پرویزالہٰی کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ ہم کوئی تاریخ مقرر کر دیتے ہیں۔

جسٹس عابد عزیز شیخ نے قرار دیا کہ گورنر کے وکیل نے آفر دی ہے کہ اعتماد کا ووٹ لیں۔ عدالت نے پرویزالہٰی کے وکیل سے استفسار کیا کہ اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کتنے دن کا وقت آپکے لیے مناسب ہوگا ؟ جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دئیے کہ ہم وہ وقت مقرر کردیتے ہیں کہ آپکا مسئلہ حل ہوجائے گا،اب تو 17 دن ویسے بھی گزر چکے ہیں اور کتنا مناسب وقت چاہیے۔

پرویز الہٰی کے وکیل نے کہا کہ میں اس حوالے سے کچھ گزارشات کرنا چاہتا ہوں،گورنر پنجاب نے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا اور اسپیکر کو خط لکھا۔ بیرسٹر علی ظفر نے بتایا کہ گورنر نے اپنے خط میں لکھا کہ وزیر اعلیٰ اعتماد کھو چکے ہیں،ہم چاہتے ہیں کہ عدالت گورنر کی جانب سے نوٹیفکیشن کی درخواست پر میرٹ پر فیصلہ کرے,جسٹس عابد عزیز شیخ نے استفسار کیا کہ تو کیا آپ اعتماد کا ووٹ لینے کی آفر قبول نہیں کر رہے؟آپ کا اعتراض تھا کہ گورنر نے اعتماد کے ووٹ کے لیے مناسب وقت نہیں دیا۔