کراچی: نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم راؤ انوار نے محرم الحرام کے بعد اہم پریس کانفرنس کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی مقابلوں کے الزامات ہیں، جے آئی ٹی درست انداز میں تفتیش نہیں کررہی۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں نقیب قتل کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے راؤ انوار کا کہنا تھا ‘5 اعلیٰ افسران جے آئی ٹی کا حصہ تھے مگر وہ تفتیش درست نہ کرسکے، تحقیقاتی کمیٹی نے میرا فون نمبر تک غلط درج کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘میری پوسٹنگ لازمی ہوگی مگر اب ملیر نہیں جاؤں گا، مجھ پر صرف الزامات ہیں، میں 21 مارچ کو خود چیف جسٹس کے سامنے پیش ہوا، اگر نمبر کراچی میں چل رہا تھا تو کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔
اس سے قبل نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت آج انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوئی۔
سماعت کے دوران سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے جبکہ تفتیشی افسر نے مفرور ملزمان سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرادی۔
تاہم کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کی رخصتی کے باعث 11 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔
دوسری جانب کیس کے انکوائری آفیسر ڈاکٹر رضوان نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مفرور ملزمان کی تفصیلات ہر پیشی پر عدالت کو فراہم کی جاتی ہے مگر اُن کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی۔
اُن کا کہنا تھا کہ تفتیشی ٹیم کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں مگر عدم تعاون کے باعث ملزمان تک رسائی حاصل نہیں کرپارہے۔
