کراچی : پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ میرے خلاف سازش پاکستان سے ہوئی ،حسین حقانی میرے خلاف کام کر کے جنرل باجوہ کو پروموٹ کررہا تھا، جنرل (ر)باجوہ نے اپنی پروموشن کیلئے حقانی کو ہائر کر رکھا تھا،ہمیں معلوم نہیں تھا ، یہ گیم اپنی ذات کو پروموٹ کرنے کیلئے تھی،معیشت کی تباہی کا ذمہ دار ایک شخص ہے ،اس حکومت کے ہوتے سیاسی و معاشی استحکام نہیں آسکتا ، یہ حکومت ’’اکنامک ہٹ مین‘‘ لگ رہی ،آڈیوز ،ویڈیو ز کا مقصد مجھے بلیک میل کرنا ہے ۔
ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے ساری سازش کا بغور مشاہدہ کیا ، اس کے کیا مقاصد تھے اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ کی خواہش تھی کہ عمران کو ہٹایا جائے ،ہمارے حکمرانوں نے ریمنڈڈیوس کو قانون توڑ کرواپس کردیا ،امریکہ کوعادت پڑی ہوئی ہے کہ جو بھی ان کے خلاف بات کرتا اس کو پسند نہیں کرتا، ہمیں پتہ چلا کہ ستمبر 2021میں ہمارے خلاف کام کرنے کیلئے حسین حقانی کو ہائر کیا گیا حالانکہ اس نے سارا کام فوج کے خلاف ہی کیا لیکن ایک دم وہ محب وطن اور فوج کا پسندیدہ بن گیا وہ جنرل( ر )باجوہ کو پروموٹ کررہاتھا،یہاں سے گیم شروع ہوئی، افسوس سے کہنا پڑتا ہے اس گیم کے پیچھے ذاتی مفادات تھے، یہ تاثر دیا گیاکہ میں فیض حمید کو آرمی چیف بنانا چاہتا ہوں حالانکہ میرے ذہن میں کوئی ایسی بات نہیں تھی ، میں نے کون سا این آرا و ٹو لینا تھا۔
عمران نے کہاکہ اب آہستہ آہستہ یہ سازش بے نقاب ہورہی ہے، رجیم چینج سے معیشت تباہ ہوگئی ،ایک آدمی جس نے سارے فیصلے کئے میں نے اس سے کہاکہ اگر یہ حکومت سنبھالتےہیں تو معیشت نہیں چلے گی،ہمیں دلاسہ دیا گیا کہ فکر نہ کریں ،مجھے کوئی سنہری لوگ بتادیں جب ن لیگ نے اچھے کام کئے ہوں، جب یہ گئے تو پاکستان کا دیوالیہ نکلا ہوا تھا، آج پاکستان کی تاریخ کی سب سے زیادہ مہنگائی ہے، آٹھ ماہ میں آٹے کی قیمت دگنی ہوئی ہے،انڈسٹری بند ہورہی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ رمیز راجہ جو اچھا بھلا کام کررہاتھا اس کو بدل دیا اور نجم سیٹھی کو اوپر بٹھا دیا اس کا کرکٹ سے کیا لینا دینا ہے ، دس سال کے بعد جب امریکہ افغانستان میں آیا تو اس کو جہاد نہیں دہشت گردی کانام دیا گیا ، امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان بات چیت ہم نےکرائی ،امریکہ افغانستان سے گیا تو یہ لوگ قبائلی علاقے میں آگئے، فنڈ ز لے کر دہشتگردی کیخلاف جنگ کیلئے لڑنا خطرناک ہوگا ، ہم جیسے ہی حکومت سے گئے تو دہشت گرد مالا کنڈ میں آگئے۔
ان کاکہناتھاکجہ جنرل باجوہ سے کہا تھاکہ کہ ہمیں احتیاط کرنی چاہئے،افغان بارڈر پر باڑ توڑی جارہی ہے کیا اس کا ہمیں علم نہیں ،میں نےجنرل باجوہ سے بار بار کہا کہ ہمیں محتاط رہنا چاہئے کہیں دہشت گردی نہ بڑھ جائے لیکن کوئی دھیان نہیں دیا گیا ، میرا اندازہ ہےکہ اپریل میں الیکشن ہوجائیں گے
عمران خان نے کہا کہ امریکی ایجنڈے کے تحت ’’وار آن ٹیرر‘‘ کا حصہ بننا خطرناک ہو گا۔
