کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے زیر اہتمام صوبائی الیکشن کمیشن کراچی کے دفتر کے باہر سندھ سرکار کی متعصبانہ حلقہ بندیوں کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیاجس میں ایم کیوایم پاکستان کے ڈپٹی کنوینرز،اراکین رابطہ کمیٹی،سینیٹرز قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین، سینئر سیاسی رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار، پی ایس پی سربراہ مصطفی کمال پی ایس پی کے صدر انیس احمد قائم خانی ،مہاجر قومی موومنٹ کے وائس چئیرمین شاہد، ذمہداران ،کارکنان اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
احتجاجی مظاہرے سے ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مہاجر قومی موومنٹ، پاک سرزمین پارٹی اور فاروق ستار کے ساتھیوں کو خوش آمدید کہتا ہوں عزت مآب بہنیں اور بیٹیاں ہمارے حوصلے اور جذبے کی اہم وجہ ہیں، حکمران سن لیں کہ ہم لڑنا نہیں چاہتے لیکن تم جانتے ہو کہ ہم لڑنا جانتے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کی سڑکوں کی آبیاری ہمارے خون سے ہے مہاجروں کی شناخت اور حقوق کے لئے ہم آگے ہیں اور ہمیشہ رہیں گےالیکشن کمیشن کی تنخواہیں انکا آفس کراچی کے دم پر ہےآپ کی ذمہ داری صاف و شفاف الیکشن کروانے کی ہے۔
خالد مقبول کا کہنا تھا کہ شہری علاقوں میں پری پول رگنگ ہو چکی ہےجو ریاست صحیح مردم شماری نہیں کر سکی وہ مردم شناسی کیا کرے گی پیپلز پارٹی نے اپنے علاقوں میں 30 ہزار اور مہاجر علاقوں میں 90 ہزار کی یوسی بنائی ہےقوم متحد ہو کر آواز بلند کر رہی ہےایک طرف وہ ہیں جو سندھ کے ریونیو کا 97 فیصد کما کر دیتے ہیں دوسرے طرف وہ جو اس ریونیو کو لوٹ کر کھاتے ہیں ہم اپنے حصے سے زائد کی قربانی دے چکے ہیں آج یہ پہلا دن ہے متحد ہو کر جدوجہد کا آغاز ہو چکامل کر چلنے میں ہی تحریک و قوم کی بقا ہے۔
کنوینر ایم کیو ایم نے یہ بات واضح کی کہ اگر ہم نے الیکشن نہیں لڑا تو کوئی الیکشن اس شہر میں نہیں ہوگاالیکشن کمیشن جواب دے کہ اسکی موجودگی میں غیر قانونی حلقہ بندیاں کیسے ہوئیں ایسی جمہوریت جس کے ثمرات عام پاکستانی تک نا پہنچیں ایسی جمہوریت کا فائدہ نہیں۔
چیئرمین سید مصطفی کمال نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کراچی پاکستان چلانے والوں کا شہر ہےجو لوگ آج یہ منصوبہ بندی کر بیٹھے کہ شہر کی بری حالت دیکھ کر کراچی پر ناجائز قبضہ کر لیں گے وہ یہ مجمع دیکھ کر اندازہ کر لیں ان کا خواب چکنا چور ہوگیااب کوئی رحمان ملک نہیں جسکی ایک کال پر فیصلے کروالیں گے۔
مصطفی کمال نے آصف زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جناب زرداری صاحب آپ زیرک سیاستدان ہیں زرداری صاحب یہ سن لیں کہ اپنے بیٹے کو وزیراعظم بنانے کے لئے کراچی کو ساتھ رکھنا ہوگااگر ایسا نا ہوا تو وزارت عظمی آپ کے بیٹے کے نصیب میں نہیں ہوگی2018 میں سینٹرل کی قومی اسمبلی سیٹ ضلع غربی میں ڈال دی گئی وسطی کی آبادی کے حساب سے ایک سیٹ کا اضافہ وہاں کیا جانا تھاہم نے کل بھی اپنی ذات سے ہٹ کر شہر کے لوگوں کے لئے آواز بلند کی تھی اور آگے بھی کریں گےاس پاکستان کے لوگ دیکھ لیں۔
سینئر رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار نےگفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ احتجاجی مظاہرہ تحریک ایم کیو ایم، متحد اور متحرک ایم کیو ایم کا مظاہرہ ہےظلم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار میری ماوں بہنوں کا مظاہرہ ہےالیکشن کمیشن کے جانب سے غیر منصفانہ حلقہ بندیوں کے خلاف مظاہرہ ہےپاکستان کی پالیسی بنانے والوں کو حقیقت آشکار کرنے کا مظاہرہ ہے اس شہر میں تاریخ کی سب سے بڑی جیری مینڈرنگ اور پری پول رگنگ کی گئی ہے۔
مظاہرے میں کراچی تمام ٹاؤنز سے تعلق رکھنے والی عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی، کارکنان اور عوام نے ٹولیوں کی شکل میں ٹرکوں بسوں گاڑیوں ویگنوں اور موٹر سائیکلوں میں جوق در جوق اللکشن کمیشن کے دفتر رواں دواں تھے۔
اس احتجاجی مظاہرے کی خاص بات یہ تھی اُردو بولنے والی تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور زمه دران شریک تھے جس میں پی ایس پی بحالی کمیٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان شامل تھے، الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نظر آرہا تھا جن کے ہاتھوں میں احتجاجی پلے کارڈ اور پارٹی پرچم تھے۔
احتجاجی مظاہرہ ایک جلسہ کی شکل اختیار کر چکا تھا ٹرک پر اسٹیج تیار کیا گیا تھا جس پر مقررین کے خطاب کا بندوبست کیا گیا تھا ، کراچی بھر کے میڈیا نمائندگان بھی اِس احتجاجی مظاہرے کی کوریج میں مشغول تھے ۔
