Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
آزاد امیدوار فراز الرحمان :’مفت بجلی نہیں نوجوانوں کو کاروبار کے مواقع دوں گا‘ | زرائع نیوز

آزاد امیدوار فراز الرحمان :’مفت بجلی نہیں نوجوانوں کو کاروبار کے مواقع دوں گا‘

کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر فراز الرحمان نے 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں بطور آزاد امیدوار حصہ لینے کا اعلان کردیا۔

معروف کاروباری گھرانے اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے فراز الرحمان کورنگی کے حلقہ این اے 234 اور 233 سے بطور آزاد امیدوار ’لیپ ٹاپ‘ کے نشان پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔

ذرائع نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ’میں عوام سے وہ وعدے نہیں کروں گا جو پورے نہ کرسکوں، میں گٹر لائن، سڑکیں بنانے، 300 یونٹ بجلی فری دینے کی باتیں نہیں کروں گا‘۔

انہوں نے کہا کہ میرا منشور نوجوانوں کو دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح دو گریڈ کی سرکاری نوکری دینے کے بجائے انہیں کاروبار کا موقع فراہم کرنا اور کاروباری بنانا ہے اور میں انتخابات میں جیتوں یا ہاروں، اس سلسلے کو جاری رکھوں گا۔

فراز الرحمان کا کہنا تھا کہ ’بہتر تعلیم، نوجوانوں کو روزگار اور صحت کی بنیادی سہولیات کے ساتھ میرا مشن یہ بھی ہے کہ کورنگی کے شہریوں کو بھی ڈیفنس کے لوگوں کے برابر کا درجہ دیا جائے کیونکہ یہ علاقہ بھی ٹیکس دے کر پاکستان اور کئی علاقوں کو پالتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ میں ڈیفنس اور کورنگی کی تفریق کو ختم کر کے اپنے حلقے کے عوام اور بالخصوص نوجوانوں کو خودمختار بناؤں گا، بجلی مفت دینے سے بہتر ہے کہ انہیں کاروباری اعتبار سے اتنا خود مختار کردوں کہ وہ جتنا بھی بل آئے اُسے بھر سکے۔

فراز الرحمان نے کراچی کے مسائل کی وجہ ہمیشہ غلط لوگوں کے انتخاب کو قرار دیا اور زور دیا کہ نوجوانوں یا شہریوں کو خود بھی سیاست دان بننا چاہیے۔ ’آپ کی گلی میں ہونے والا گڑھا کوئی اور نہیں بلکہ آپ خود بھر سکتے ہیں، جب تک مسائل کے حل کیلیے کھڑے نہیں ہوں گے تب تک کچھ بہتر نہیں ہوسکے گا‘۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 234 اور 233 میں لیپ ٹاپ کے نشان پر الیکشن لڑنے والے فراز الرحمان کا کہنا ہے کہ ہمیں شہر اور علاقے کی اونر شپ لینی ہوگی، تنظیم، اتحاد، نظم و ضبط کے اصول پر کاربند ہونا ہوگا، بس ہم ان چیزوں پر عمل کرلیں تو پھر پاکستان کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

نوجوانوں کو خود مختار بنانے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں فراز الرحمان بولے کہ ’یہ وہ نوجوان ہیں جن کے ہاتھ میں کمان دی جائے تو سب کچھ بدل کر رکھ سکتے ہیں، جدید ٹیکنالوجی کے دور میں اگر ہم موقع نہ دیں اور ایسے لوگوں کو ہی آگئے لائیں جنہیں دور حاضر کا علم نہیں تو پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا‘۔

فراز الرحمان کا ماننا ہے کہ صرف دو چیزوں پر اگر کام ہوگیا تو پاکستان نہ صرف معاشی مسائل کے دلدل سے نکل سکتا ہے بلکہ ایشین ٹائیگر بن کر سامنے آسکتا ہے۔

’وہ دو کام یہ ہیں کہ سب سے پہلے نوجوانوں کو مواقع دیے جائیں کیونکہ کاروبار مشکل نہیں بلکہ اس کے لیے ہمت، فیصلہ سازی اور سب سے بڑھ کر اللہ پر توکل چاہے، جب ہمارے نوجوان خود اپنے کاروبار کریں گے تو پھر پاکستان کو ترقی سے کوئی نہیں روک سکے گا‘۔

فراز الرحمان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ کاروبار کیلیے نوجوانوں کو اس طرح سے مواقع فراہم کریں گے کہ اگر پہلے مہینے نہیں تو تیسرے ماہ میں ایک نوجوان اپنا کاروبار کرنے کے قابل ضرور ہوجائے گا تاہم انہوں نے سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی اس حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب وقت کی قلت کے باعث نہیں دیا۔

انہوں نے پاکستان کی ترقی کا دوسرا راز یہ بتایا کہ کاروباری طبقے اور عوام کو اب باہر نکلنا ہوگا، اگر ایسا نہ ہوا تو خاکم بدہن صورت حال بہت زیادہ خراب ہوجائے گی اور پھر ہم اپنی شناخت بھی تلاش کرتے رہیں گے۔

آزاد امیدوار کی حیثیت سے بطور امیدوار سیاسی میدان میں کودنے کے سوال پر فراز الرحمان نے کہا کہ ’میں خود کو آزاد سمجھتا ہوں اور اپنے لوگوں کو بھی سیاسی جماعتوں کے چنگل اور سسٹم سے آزاد کرانا چاہتا ہوں، اب وقت ہے کہ عوام اپنے انگوٹھے کا صحیح استعمال کردیں اور ان سارے چکروں سے آزاد ہوکر باوقار زندگی گزاریں‘۔