اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تجارت بڑھانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ تجارت کو 2023 میں 3.1 ارب پا ئونڈ کی سطح سے مختصرعرصے میں 10 بلین ڈالر سالانہ تک لے جایا جا سکتا ہے۔
صدرمملکت سے پاکستان میں برطانیہ کے سبکدوش ہونے والے ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنر نے ملاقات کی۔ صدر مملکت نے برطانوی ہائی کمشنر سے گفتگو میں کہا کہ نئے مواقع اور منڈیوں کی تلاش،مصنوعات اور خدمات کو متنوع بنا کر،اور ملک میں اقتصادی اور سیاسی استحکام کو یقینی بناکر دوطرفہ تجارت میں اضافہ کیاجاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں برطانیہ کی جانب سے تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے سے ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی، دوطرفہ معاشی تعلقات میں اضافے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور مستقبل میں ترقی کی شرح کو برقرار رکھا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی ترقی پذیر ممالک کیلئے تجارتی سکیم پاکستان کو ٹیرف میں کمی اور آسان شرائط فراہم کرے گی، تجارتی سکیم سے پاکستان سے برطانیہ کو 94 فیصد سے زائد اشیا کی ڈیوٹی فری برآمد ممکن ہو سکے گی۔ صدر مملکت نے دونوں ممالک کے مابین آزاد تجارتی معاہدہ پر دستخط کرنے کیلئے پیشرفت تیز کرنے پر بھی زور دیا۔
صدرمملکت نے کہا کہ 120 برطانوی کمپنیاں پاکستان میں تقریباً 10 بلین ڈالر کی مجموعی سرمایہ کاری کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ صدرنے مختلف شعبوں میں تعلقات آگے لے جانے کیلئے 10 سالہ روڈ میپ تیار کرکے دو طرفہ پارٹنرشپ بہتر بنانے کی ضرورت پر زوردیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون اور انسداد دہشت گردی میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے 33 ملین لوگ متاثر ہوئے، لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں، عالمی برادری کو گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرے سے دوچار ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کے خلاف لچک پیدا کرنے میں مدد کرنی چاہئے۔
برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان اپنی انگریزی بولنے والی افرادی قوت اور مشرق وسطیٰ سے قربت کے باعث برطانوی کمپنیوں کی جانب سے سرمایہ کاری کے لئے موزوں ملک ہے۔ انہوں نےکہا کہ معاشی و سیاسی استحکام اور پائیدار پالیسیوں سے پاکستان میں برطانیہ کی جانب سے سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مزید مدد ملے گی۔
