حیدرآباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش معاشی اور سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، ملک میں انتخابات جلد ہونے چاہئیں اس سلسلے میں الیکشن کمشنر کو خط بھی لکھا ہے۔
وہ حیدرآباد میں “یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اس کے”کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، تقریبات میں تاجر و صنعت کار،سول سوسائٹی اور معززین شہر نے بھی شرکت کی۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں جنگ کے باوجود کئی سال پہلے جمہوریت کے تسلسل اور عوام کے حقوق کے لئے انتخابات کرائے گئے، کسی بھی ملک کے لئے حالات کیسے بھی ہوں انتخابات لازمی ہیں، انہوں نے کہا کہ کیونکہ میرا تعلق سیاسی جماعت سے رہا ہے تب ہم نے اس بنیاد پر سیاست کی کہ ملک میں آئین اور جمہوریت کی مضبوطی ، عوام کے حقوق اور انصاف سب کے لئے یکساں ہوں اور اس ضمن میں عوام نے اپنے نمائندے منتخب کئے لیکن ہمارے ملک میں بعض ایسی قوتیں ہیں جنہوں نے نظام کی تبدیلی میں رکاوٹیں ڈالیں اور وہ حکومت بھی ختم ہوئی، انہوں نے کہا کہ چائنا، بھارت، بنگلادیش اور دوسرے ملک تعلیم میں ہم سے آگے نکل گئے اور ہمارے ملک میں اس وقت بھی دو کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، ہمیں بنیادی تعلیم، آئی ٹی انسفراسٹرکچر، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہوگا جب تک ہم اپنے آپ کو ٹھیک نہیں کریں گے تب تک ملک کے حالات نہیں بدل سکتے، ایسی صورتحال میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر یہ سوچنا ہوگا کہ ملک میں ترقی اور استحکام کیسے ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش معاشی اور سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، تعلیم اور آئی ٹی کے شعبے میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل حیدرآباد ایئر پورٹ کے آڈیٹوریم میں ایوان صنعت و تجارت کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان کا روشن مستقبل انسانی وسائل کی ترقی میں ہے، دنیا میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جو ملک تباہ ہوئے لیکن اپنی ہنر مندی و افرادی قوت کی بدولت آج ان کا ایک مقام ہے،کامیابی کا راز عاجزی اور انکساری میں ہے، آپ اپنے عمل کے ذریعے ہی لوگوں کو متاثر کرتے ہیں، کسی کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ تبدیلی اس وقت آتی ہے جب آپ عمل کرکے دوسروں کو دکھائیں، ملک کو معاشی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اسکولوں میں داخلے کی شرح خطے کے دوسرے ممالک کی نسبت کہیں کم ہے۔
