حرکت قلب کی بندش، ایک سازش، تحریر عمیر دبیر

گزشتہ برس تین مئی کو کراچی کا ایک ہشاش بشاش نوجوان علی الصباح جناح اسپتال لایا گیا اور ڈاکٹر سیمیٰ جمالی کو ایک ٹیلی فون پہنچا کہ وہ آکر پوسٹ مارٹم رپورٹ مرتب کریں، خاتون ڈاکٹر ادھوری نیند لے کر آنکھیں ملتی ہوئی اسپتال پہنچی تو باہر کھڑے لوگوں نے انہیں جانے سے روک دیا کیونکہ سیکیورٹی کے باعث اسپتال کے داخلی دروازے کو بند کردیا گیا تھا۔

خیر ڈاکٹر صاحبہ نے اپنا تعارف کروایا پھر اندر سے حکم موصول ہونے کے بعد انہیں ایمرجنسی تک پہنچنے کی اجازت مل گئی، ایک صاحب نے قریب آکر سرگوشی کی کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں وجہ موت ہارٹ اٹیک لکھی جائے  ساتھ ہی بات کو جاری رکھتے ہوئے صاحب نے کہا کہ کچھ دیر میں اہل خانہ جسد خاکی لے جائیں گے۔

سیمی جمال نے کپڑا ہٹایا تو تشدد کی وجہ سے شکل نہ پہنچان سکیں کیونکہ وہ بہت زیادہ سوجا ہوا تھا، خیر انہوں نے ساتھ آئے لوگوں سے رپورٹ میں نام درج کرنے کے لیے جب تفصیلات دریافت کیں تو انہیں علم ہوا کہ مقتول ڈاکٹر فاروق ستار کا پی اے تھا جس کا نام آفتاب احمد تھا۔

موقع حاصل ہوتے ہی خاتون نے جرات کا مظاہرہ کیا اور ایم کیو ایم کی اعلیٰ قیادت کو بھی اس حوالے سے مطلع کردیا، اب صورتحال برعکس ہوگئی، قیادت اور کارکنان کی بڑی تعداد سورج کی کرنیں پھوٹنے سے پہلے ہی اسپتال پہنچ گئی مگر وہی انہیں سڑک پر کھڑے ہونا پڑا۔

جب تعداد زیادہ بڑھنے لگی اور عوامی نعرے سورج کی روشنی کے ساتھ ساتھ جناح اسپتال کے درودیوار ہلانے لگے تو اسی دوران موقع غنیمت جان کر بڑے صاحب وہاں سے روانہ ہوگئے ۔

ڈاکٹر سیمی جمال سے رابطہ کرکے جیسے تیسے مقتول کی تصاویر بنائی گئیں اور انہیں سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا تو انٹرنیشنل صحافی بھی دکھی دل کے ساتھ افسوس اور احتجاج کرنے لگے تاہم اعلیٰ افسر کے سربراہ نے مؤقف اپنایا کہ آفتاب احمد کا انتقال حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوا ہے ورنہ اُس کے خیال رکھنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی گئی۔

Image result for aftab Ahmed MQM

اگر اسی مؤقف کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر ٹخنوں میں ٹھکی کیلیں، جسم پر تشدد کے نشانات اور جسم کی سوجن شاید موت کے فرشتوں کی سازش تھی کیونکہ وہ آئے اور آفتاب کی حرکت قلب بند ہوگئی اور  پھر لوگ ادارے پر طعنے کستے ہوئے دل کی بھڑاس نکالنے لگے۔

سب کو موت کا مزہ تو سب کو چکھنا ہے اس لیے انتظار کریں ہوسکتا ہے کہ حضرات کی موت کے فرشتے بھی عین  اُسی وقت آئیں جیسے آفتاب کےوقت میں آئے تھے کیونکہ اللہ کے ہاں انصاف ہے اور انسان جو کرتا اُسے وہ دنیا میں دیکھنا بھی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: