اسلام آباد: ملک بھر میں 23 جنوری کو ہونے والے بجلی کے بریک ڈاؤن سے متعلق ابتدائی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق رپورٹ این ٹی ڈی سی نے رپورٹ تیار کی ہے،این ٹی ڈی سی نے رپورٹ پاور ڈویژن کو جمع کرا دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فریکوئنسی میں اتار چڑھاؤ کے باعث 500 کے وی کی ٹرانسمیشن لائنز پر ٹرپنگ ہوئی،ٹرپنگ کی وجہ سے این ٹی ڈی سی اور کے الیکٹرک کا سسٹم بیٹھ گیا۔
سسٹم بیٹھنے سے 11 ہزار 356 میگاواٹ بجلی سسٹم سے نکل گئی۔ این ٹی ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق 23 جنوری کی صبح فریکوئنسی میں اتار چڑھاؤ پیدا ہوا،فریکوئنسی کے اتار چڑھاؤ سے 500 کے وی ساؤتھ ٹرانسمیشن لائنز ٹرپ کر گئیں،بریک ڈاون سے پہلے سسٹم کی فریکوئنسی 50 میگا ہرٹز تھی۔
فریکوئنسی اچانک بڑھ کر 57 میگا ہرٹز تک پہنچ گئی،فریکوئنسی اچانک بڑھنے سے سسٹم پر لوڈ اور وولٹیج غیر متوازن ہوئی۔
تربیلا،منگلا اور وارسک سے بحالی کا عمل فوری شروع کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تربیلا،منگلا اور وارسک میں متعدد بار ٹرپنگ ہوئی،شام پانچ بجے بجلی کیلئے منگلا کا سیکروٹنائز سسٹم کیا گیا،بنیادی فالٹ گدو ٹرانسمیشن لائنوں میں آیا،فریکوئنسی مسئلے کے باعث 11ہزار 356 میگا واٹ بجلی سسٹم سے نکلی۔
بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کے باعث ملک بھر میں بجلی بند ہو گئی تھی۔اسلام آ باد،راولپنڈی،کراچی،لاہور اور پشاورسمیت ملک کے مختلف شہروں میں بجلی کا بریک ڈا ؤن ہوا، جس کے باعث صارفین کو مشکلات کا سامنا رہا۔وزیراعظم نے ملک بھر میں بجلی کے تعطل کا سخت نوٹس لیا۔
