میئر کراچی نے استعفے کی دھمکی دے دی

 کراچی: میئرکراچی وسیم اختر نے وزیراعلیٰ سندھ سے کہاہے کہ ابھی وقت ہے کہ ہماری بھیجی گئی اسکیموں کو بجٹ میں شامل کرلیں ورنہ آخری اقدام احتجاج ہے یا پھر استعفیٰ دے دیں۔

میئرکراچی وسیم اختر نے بدھ کی دوپہر کے ایم سی بلڈنگ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں نے سپریم کورٹ کا آپشن استعمال کرلیا ہے، وزیراعلیٰ سے امید رکھتے ہیں کہ ہماری بھیجی گئی ترقیاتی اسکیمیں بجٹ میںشامل کرلیں تو بہت اچھا ہے ورنہ پھرہم احتجاج اور استعفوں کے آپشن استعمال کریں گے، سٹی کونسل میں دیگرپارلیمانی پارٹیوں نے بھی حکومت سندھ کے بجٹ کو مستردکردیا اور کہاکہ ہم احتجاج کا حق رکھتے ہیں۔

دوسری جانب تحریک انصاف کراچی کے صدر اور کونسل میں پارلیمانی لیڈر فردوس شمیم نقوی نے کہاکہ کراچی کے ساتھ اس سے پہلے اتنی بڑی زیادتی کبھی نہیں ہوئی، کراچی کی سب سے بڑی دشمن پیپلزپارٹی ہے، بجٹ پر نظرثانی نہ کی گئی تو احتجاج کریں گے، مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر امان خان فریدی نے کہاکہ ہم نے بجٹ قبول کیا ہے نہ کریں گے، پرامن احتجاج کا حق رکھتے ہیں۔

وسیم اختر نے کہا ہے کہ سندھ کے بجٹ میں لوکل کونسل نمائندوں کی تجویز کردہ ترقیاتی اسکیموں کو شامل نہ کرنا عوامی مینڈیٹ کی تضحیک اور کونسل کا استحقاق پامال کرنے کے مترادف ہے،صوبائی بجٹ میں کراچی کو بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ خود بھی منتخب ہو کرآئے ہیں، ابھی بجٹ منظور نہیں ہوا اْن سے درخواست ہے کہ پیش کردہ بجٹ پر نظر ثانی کریں اور لوکل کونسلوں کی اسکیموں پر عملدرآمد کرائیں، تمام کام پروجیکٹ ڈائریکٹر کے ذریعے کرانے ہیں تو پھر لوکل کونسلوں کو ختم کر دیا جائے، زیادہ تربجٹ ان جگہوں پر لگایا جا رہا ہے جہاں کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں۔

میئر کراچی نے کہا کہ سندھ حکومت لوکل کونسلز کو ذرائع آمدنی نہ بڑھانے کا طعنہ دیتی ہے مگر خوداپنے وسائل بڑھانے میںبری طرح ناکام ہوچکی ہے جس کا ثبوت ان کی بیلنس شیٹ ہے جو یہ بتاتی ہے کہ 1044 بلین روپے کے بجٹ میں سے 184 بلین روپے وصولی کا ہدف رکھا ہے جو محض 17فیصد ہے جبکہ اسے83فیصد فنڈ حکومت پاکستان سے ملتے ہیں سندھ ریونیو بورڈ کے ریونیو کا 90 فیصد سے زائد کراچی سے وصول ہوتا ہے، سندھ ریونیو بورڈر کا تخمینہ100بلین روپے دکھایا ہے جس کا مطلب ہے کراچی سے تقریباً90سے 95 بلین روپے جمع ہوں گے جبکہ مجموعی موٹر وہیکل ٹیکس میں 7.5بلین روپے کا ہدف ہے جس کی 70 فیصد سے زائد آمدنی کراچی سے ہوگی۔

وسیم اختر نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس کے ایم سی کو منتقل ہونا چاہیے تھا لیکن ابھی تک حکومت سندھ کے پاس ہے۔ انفرا اسٹرکچر چارجز جو 46بلین روپے ہیں مکمل طور پر کراچی سے وصول کیے جاتے ہیں،جی ایس ٹی کی شرح 1999 میں 12.5 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کی گئی جبکہ یہ بات طے تھی یہ اضافی رقم سندھ کونسلز کو بالترتیب ان کی او زیڈ ٹی کی متبادل کے طور پر دیا جائے گا مگر وقت کے ساتھ ساتھ سندھ کی کونسل خصوصاً کے ایم سی کو متفقہ فارمولے کے بجائے بہت ہی کم رقم دی جارہی ہے جس کی وجہ سے کے ایم سی کو ماہانہ ایک ارب تین کروڑ رو پے کی جگہ محض 462 ملین روپے مل رہے ہیں،کراچی کی عوام اضافی ٹیکس ادا کررہے ہیں مگر کراچی کو اس کا جائزاو زیڈ ٹیحصہ نہیں مل رہا ہے، 185 بلین روپے کے مجموعی بجٹ تخمینہ میں کراچی سے وصول ہونے والی رقم تقریباً 150 بلین روپے بنتی ہے اور اس کے مقابلے میں کراچی کا ترقیاتی بجٹ بمشکل 40سے 50 بلین روپے بنتا ہے، اسی طرح سیوریج کے بڑے منصوبے ایس تھری کی ایلوکیشن بھی محض 224 ملین روپے دکھائی گئی ہے جوکہ 3 ارب روپے کے دعوے کے برخلاف معلوم ہوتی ہے۔

میئر کراچی کا کہنا تھا کہ مجموعی لوکل گورنمنٹ ڈیولپمنٹ اسکیمز جن میں کراچی کی29 میگا اسکیمیں ملا کر کل440اسکیمیں بنتی ہیں لیکن ان میں سے 122 اسکیمیں صرف کراچی کیلیے ہیں حالانکہ کراچی کی آبادی 40 فیصد کے قریب ہے لہٰذا اس اعتبار سے کراچی کو200 سے زائد اسکیمیں ملنی چاہئیں،40 بلین روپے کے لوکل گورنمنٹ ڈیولپمنٹ ورکس میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کا ترقیاتی حصہ صرف ایک بلین روپے ہے اور اس کے علاوہ کے ایم سی کیلیے کوئی فنڈز مختص نہیں کیے گئے، تمام فنڈز سالڈ ویسٹ مینجمنٹ جیسے ایڈہاک انتظامات کے ذریعے استعمال کیے جارہے ہیں جوبذات خود سپریم کورٹ کے احکام کے تحت غیر فعال ہوچکا اور پھر بھی اسے 2.95 بلین روپے دے دیے گئے۔

علاوہ ازیں پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر فردوس شمیم نقوی نے سندھ کے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے شہریوں کو احتجاج پر مجبور کیا جارہا ہے ،جب تک لوکل گورنمنٹ کو بااختیار نہیں بنایا جائے گا عوام کے مسئلے حل نہیں ہوں گے، پاکستان مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی لیڈر امان اللہ آفریدی نے کہا کہ کراچی کی ڈھائی کروڑ آبادی کے ساتھ سندھ حکومت کا رویہ انتہائی افسوسناک ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کراچی کو سندھ کا حصہ نہیں سمجھا جاتا،یہاں سے بھاری ریونیو ریکوری کے باوجود کراچی کے شہری سہولیات کو ترس رہے ہیں۔

بشکریہ ایکسپریس

اپنا تبصرہ بھیجیں: