Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
کراچی کے مختلف علاقوں میں کئی دنوں سے پانی ناپید ، شہری بلبلا اٹھے | زرائع نیوز

کراچی کے مختلف علاقوں میں کئی دنوں سے پانی ناپید ، شہری بلبلا اٹھے

کراچی: صاف پانی کی فراہمی کے لیے لگائے گئے آر او پلانٹ کی بندش سے بلدیہ ٹاؤن کیماڑی سمیت کراچی کے مختلف علاقوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

کراچی کےمختلف علاقوں میں 25 آراوپلانٹس کوئی وجہ بتائے بغیربند کردیئے گئے،عدم ادائیگی ،ٹیکنیکل خرابی کے باعث بند ہونیوالے پلانٹس کی بحالی کے لیے تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے،قیمتی آر، او پلانٹس کے ناکارہ اوربندہونےمیں ملوث اداروں اور افسران کے خلاف کارروائی کامطالبہ سامنے آیاہے۔

کراچی کے مختلف علاقوں ضلع غربی،وسطی،کیماڑی اورجنوبی میں اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن ،سائٹ ایریا، گڈاپ ٹاؤن اورنارتھ ناظم آباد ٹاؤن سمیت مختلف آبادیوں میں آراوپلانٹس بند ہونے سےپانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

ذرائع کاکہنا ہےکہ کیماڑی اور لیاری میں 12آر اوپلانٹ سے پانی کی سپلائی بند ہوگئی ہے جبکہ نارتھ کراچی، نیوکراچی میں، فیڈرل بی ایریا ،نارتھ ناظم آباد کےعلاوہ ضلع جنوبی اور ضلع شرقی میں 10 آر او پلانٹس بند ہوگئے ہیں،حکومت سندھ نے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ اور پروجیکٹ سول ڈویژن پی ڈبلیو ڈی کےذریعے ان آر، او پلانٹس کو نصب کرایا تھا لیکن اب ان کی بندش کے بعدسندھ حکومت نے ان پلانٹس کی بحالی کاکام تاحال شروع نہیں کرایاہے۔کیماڑی، لیاری، پانچ سوکوارٹر، مشرف کالونی ہاکس بے اور پی اے ایف بیس مسرورکےعلاقے میں بھی آراو پلانٹ بند ہونے سے پانی کی شدید قلت پیداہوگئی ہے اوروہاں کی مکینوں کے لیےصاف اور میٹھے پانی کاحصول مشکل ہوگیا ہے اورمکین پانی خریدنے پرمجبورہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ بہت سے آراو پلانٹس پہلے ہی تباہی کی بھینٹ چڑھ گئے باقی رہ جانےوالے ناکارہ ہونے پرحکومت کی بے حسی کامنہ بولتا ثبوت بن چکے ہیں۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پی ڈبیلوڈی کے سول انجینئرنگ اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ سمیت ان تمام ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے جن کی لاپرواہی کے باعث کروڑوں روپےلاگت کے آراوپلانٹس ناکارہ ہوکراسکریپ کی شکل اختیارکررہے ہیں عوام کو صاف پانی کی سہولت فراہم کے نام پر اربوں روپےضائع کرنے کانوٹس لیاجائے۔