کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے دودھ اور دیگر اشیا ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے سے متعلق درخواست پر سرکاری وکیل کو تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے دودھ ریٹیلزر ایسوسی ایشن کی درخواستیں عدم پیروی پر خارج کردیں۔
جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو دودھ اور دیگر اشیا ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواست گزار طارق منصور ایڈوکیٹ نے موقف دیا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے حلف لینے کے بعد پہلے خطاب میں بلیک مارکیٹنگ کے لیے قانون سازی کا حکم دیا۔ 1948 سے آج تک بلیک مارکیٹنگ اور ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے قانون سازی نہیں کی گئی۔ قائد اعظم کی ایک ایک بات آج سچ ثابت ہورہی ہے۔ بلیک مارکیٹنگ، ذخیرہ اندوزی اور من مانی قیمتیں وصول کی جارہی ہیں۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے اس وقت ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کے لیے 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ تجویز کیا تھا۔ دودھ سمیت دیگر اشیا ضرویہ کی قیمتوں کی جانچ پڑتال اور کنٹرول کا اختیار کمشنر کراچی اور دیگر کو دے دیا گیا۔ کمشنر کراچی اور اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر کو چھاپے مارنے کا اختیار دینا غیر قانونی ہے۔ ہوڈنگ اینڈ بلیک مارکیٹنگ ایکٹ میں غیر قانونی زخیرہ اندوزی پر سزاؤں کا تعین کیا گیا تھا۔ 1953 میں کراچی ایسنشئیل آرٹیکلز پراسیسنگ پروفیٹینگ اینڈ ہوڈنگ ایکٹ کراچی ڈویژن کے لئے نافذ کیا، مگر عملدرآمد نہ ہوا۔ گوڈاؤن کی رجسٹریشن کے لئے سندھ گوڈاون رجسٹریشن ایکٹ 1996 لایا گیا، مگر بے سود ثابت ہوا۔ ایکٹ کو نافذ کرکے عوام کو زخیرہ اندوزوں سے نجات دلائی جائے۔ 12 سال پہلے دودھ کی قیمتوں کے تعین اور چھاپوں کا اختیار کمشنر کراچی کو دے دیا گیا۔
دودھ اور دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا جس محکمے کی ذمہ داری ہے اس نوٹیفکیشن کے زریعے غیر فعال کردیا گیا ہے۔
طارق منصور ایڈوکیٹ نے قائد اعظم محمد علی جناح کی تقریر کا متن بھی عدالت میں پیش کیا۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ انتہائی اہم کیس ہے سن کر فیصلہ کریں گے۔
عدالت نے سرکاری وکیل کو تیاری کرکے پیش ہونے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے دودھ ریٹیلزر ایسوسی ایشن کی درخواستیں عدم پیروی پر خارج کردیں۔ عدالت نے سماعت 20 فروری تک ملتوی کردی۔
