لاہور: ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق درجہ حرارت میں اضافہ اور گندم کی فصل کے سبز رنگ کی وجہ سے کنگی اور سست تیلے کے حملہ کا امکان ہو سکتا ہے۔
اس مرحلہ پر گندم کے کاشتکارنائٹروجنی کھاد کے استعمال میں احتیاط برتیں۔ نارمل زمین میں گندم کی فصل کو 60دن تک نائٹروجن کھاد کی آخری قسط دی جا سکتی ہے۔اس کے علاوہ جہاں یوریا کھاد بالکل نہ دی گئی ہو اور فصل پیلی یا کمزور ہوتو اس صورت میں یوریا کھاد زرعی ماہرین کے مقامی عملے کے مشورہ سے دی جا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ جھاڑ اور گانٹھیں بنانے کے آخری مراحل میں 3 فیصد یوریا (3 کلو گرام 100 لیٹر پانی میں)کا فولئیرسپرے کیا جا سکتا ہے۔جن کاشتکاروں نے بجائی یا پہلے پانی پر نائٹروجنی کھاد استعمال نہ کی ہو یا صرف ایک یا دو بوری ڈی اے پی استعمال کی ہو تو اُن سب سے گزارش ہے کہ ماہ فروری کے پندرہ دنوں میں ایک بوری یوریا کا استعمال یقینی بنائیں۔
اس کے بعد فصل کیلئے یوریا کا استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔نائٹروجن کھادوں خاص طور پر یوریا کا زیادہ استعمال گندم کی فصل میں متوازن کھادوں میں خرابی کا باعث بنتا ہے۔کاشتکاروں کا یوریا کے استعمال میں بے جا زیادتی کی وجہ سے پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے۔ نارمل زمین میں نائٹروجن کھاد/ یوریاکا استعمال عام طور پر دو حصّوں میں مکمل کیا جاتا ہے جبکہ ریتلی اور لوم والی زمینوں پر یہی استعمال تین حصوں میں مکمل کیا جاتا ہے۔ت
گندم کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لئے کاشتکارنائٹروجنی کھاد کا اطلاق 50سے55 دن کے اندر مکمل کریں۔ ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے مزید کہا کہ گندم کی فصل کو چونکہ اب60 دن مکمل ہو چکے ہیں تو اس مرحلہ پر یوریا کا بے جا استعمال پودے میں خشکی و تناؤ پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے جس کی وجہ سے فصل پر تیلہ یا کنگی کے حملہ کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
اس لئے گندم کے کاشتکار اس مرحلہ پر نائٹروجنی کھاد کے استعمال میں احتیاط کریں تا کسی بھی ناگزیز صورت حال میں نائٹروجن کھاد/یوریا کا استعمال محکمہ زراعت پنجاب کے مقامی عملے کے مشورہ کریں۔
