میڈیا سینسر شپ، تین مایہ ناز چینلز کے صحافیوں‌ اور مالکان کوسخت ہدایت

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) میڈیا میں ان دنوں سینسر شپ کے حوالے سے بحث زور و شور سے جاری ہے، جس میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ جیو ، دنیا اور ایکسپریس کے اینکرز کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ رانا ثنا اللہ، طلال چوہدری اور عظمیٰ بخاری کو اپنے پروگرامز میں مدعو نہ کریں۔

پاکستان میڈیا واچ کی جانب سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ جیو نیوز، دنیا اور ایکسپریس کے اینکرز کو انتظامیہ نے ہدایت کی ہے کہ رانا ثنا اللہ، طلال چوہدری اور عظمیٰ بخاری کو اپنے پروگرامز میں مدعو نہ کریں اور اگر کوئی بھی شخص پروگرام کے دوران نواز شریف کا دفاع کرنے کی کوشش کرے تو اسے بھی فارغ کرادو، اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو پھر چینلز بند کیے جاسکتے ہیں۔

ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ جیو نیوز اور دنیا نیوز کو پہلے ہی حکم دیا جاچکا ہے کہ وہ احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق اور خواجہ آصف کے ایک ایک گھنٹہ طویل ون آن ون انٹرویوز نہیں کرسکتے۔

اینکرز کو ہدایات کی گئی ہیں کہ پی ٹی آئی کو زیادہ سے زیادہ نمائندگی دی جائے جس کے بعد پیپلز پارٹی کو اہمیت دی جائے۔ دنیا نیوز پر سینسر شپ کا عملی مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب جاوید ہاشمی کا انٹرویو دوبارہ نشر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

سینئر اینکر پرسن طلعت حسین کی جانب سے انتہائی نپے تلے انداز میں اس خبر کی تصدیق کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس طرح کی بعض رپورٹس میں اتنی بھی مبالغہ آرائی نہیں ہے۔


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔