Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ترکیہ کو ایف سولہ کی فراہمی نیٹو رکنیت معاملہ سے مشروط ہے: امریکی سینیٹرز | زرائع نیوز

ترکیہ کو ایف سولہ کی فراہمی نیٹو رکنیت معاملہ سے مشروط ہے: امریکی سینیٹرز

نیو یارک : امریکی سینیٹرز کے ایک دو طرفہ گروپ نے کہا کہ کانگریس ترکیہ کو ایف سولہ لڑاکا طیاروں کی 20 بلین ڈالر کی فروخت کی حمایت اس وقت تک نہیں کر سکتی جب تک کہ انقرہ سویڈن اور فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت پر رضامند نہیں ہو جاتا۔صدر جو بائیڈن کو لکھے گئے خط میں 29 ڈیموکریٹک اور ریپبلکن سینیٹرز نے کہا کہ دونوں سکینڈینیوین ملک ترکیہ کی طرف سے درخواست کردہ نیٹو کی رکنیت کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے نیک نیتی سے مکمل کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم دوسری جانب انقرہ کا کہنا ہے کہ سویڈن کو مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

سینیٹرز نے خط میں لکھا ہے کہ جس وقت ترکیہ نے نیٹو کے الحاق کے پروٹوکول کی توثیق کر دی کانگریس ایف 16 لڑاکا طیاروں کی فروخت پر غور کر سکتی ہے۔ تاہم ایسا کرنے میں ناکامی سے اس زیر التوا فروخت پر سوالات اٹھ جائیں گے۔ یہ پہلا موقع ہے جب کانگریس نے واضح طور پر اور براہ راست انقرہ کو ایف سولہ طیاروں کی فروخت کو سویڈن اور فن لینڈ کے نیٹو کے ساتھ الحاق کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔سویڈن ترکی سے نیٹو میں شمولیت کی اپنی درخواست کی منظوری کا خواہاں ہے جو اس نے گزشتہ سال یوکرین پر روسی حملے کے بعد پیش کی تھی۔ تاہم انقرہ نے دونوں ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف واضح موقف اختیار کریں۔ ان دہشتگر دوں میں زیادہ تر کرد ہیں۔ اسی طرح اس تنظیم کے متعلق بھی واضح موقف سامنے لایا جائے جس کو ترکیہ نے 2016 کی بغاوت میں ملوث قرار دیا تھا۔

ترکیہ ، فن لینڈ اور سویڈن کے درمیان جون میں میڈرڈ میں ایک معاہدے پر آگے بڑھنے کا معاہدہ ہوا تھا۔ لیکن انقرہ نے گزشتہ ماہ سٹاک ہوم میں اس احتجاج کے بعد مذاکرات کو معطل کر دیا تھا جس میں ایک انتہا پسند ڈنمارک کے سیاست دان نے قرآن کریم کے نسخے کی بے حرمتی کی تھی۔