کراچی : تاجر برادری اور پختون جرگہ نے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کی جانب سے اغوا کیے گئے 200 سے زائد مغویوں کی بازیابی کے لیے سندھ حکومت کو دو روز کا وقت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی پیشرفت نہ ہوئی تو سپر ہائی وے بلاک کردیں گے۔
سندھ اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر و رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید نے کچے کے علاقے میں قید ذاکر اللہ سمیت 2 سو مغویوں کی بازیابی کا مطالبہ کردیا۔ انہوں نے کراچی پریس کلب میں مغوی ذاکر اللہ کے والد لالئی خان، سندھ آل ڈمپرز ایسوسی ایشن کے حلیم ضان، صدر یوسف خٹک، جے آئی یوتھ کے ملک فیاض اور پختون جرگہ کے دیگر افراد کے ساتھ مشترکہ کانفرنس کی۔
تاجر برادری اور پختون جرگہ نے دو روز میں مسئلہ حل نہ ہونے پر سپر ہائی وے بلاک کرنے کا الٹی میٹم دے دیا۔ پارلیمانی لیڈر جماعت اسلامی ورکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید نے کہا کہ ذاکر اللہ سمیت 2 سو سے زائد لوگ کچے کے علاقے میں مغوی ہیں اور حکومت سندھ ان کی بازیابی کیلئےسنجیدہ اقدامات نہیں اٹھارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مغوی کی بازیابی کیلئے 50 لاکھ تاوان مانگا جارہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلی سندھ، آئی جی اور ڈی جی رینجرز مغویوں کی بازیابی کیلئے اقدامات کریں۔ انہوں نے کہاکہ بصورت دیگر جماعت اسلامی احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کل وزیر اعلی سندھ خیبر پختونخواہ دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کیلئے پشاور پہنچ گئے لیکن ان کے اپنے صوبے میں امن وامان خطرے میں ہے انہوں نے کہاکہ وزیر اعلی سندھ کو اپنے صوبے کے حالات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سندھ کے کچے کے علاقوں میں حکومتی رٹ چیلنج ہورہی ہے اور حکومت تماشائی ہے۔حکومت نے عوام کے جان و مال کاتحفظ یقینی نہ بنایا مغوی بازیاب نہ ہوئے تو سخت احتجاج پر مجبور ہونگے۔
