Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
عجیت الخلقت سمندری مخلوق نے دہشت پھیلا دی | زرائع نیوز

عجیت الخلقت سمندری مخلوق نے دہشت پھیلا دی

گزشتہ دنوں انڈونیشیاءکے ایک جزیرے کے ساحل میں ایک نامعلوم سمندری مخلوق کا مردہ جسم بہہ کر آگیا جس نے وہاں رہنے والوں میں دہشت پھیلا دی۔

یہ عظیم الجثہ مگر نامعلوم سمندری مخلوق انڈونیشین جزیرے Seram آئی لینڈ کے ساحل پر بہہ کر پہنچی جس کی لمبائی لگ بھگ 15 میٹر تھی۔

آغاز میں تو وہاں کے رہائشی افراد کا خیال تھا کہ یہ کوئی تباہ شدہ کشتی یا شپنگ کنٹینر ہے تاہم قریب جانے پر وہ خوفزدہ ہوگئے۔

جکارتہ گلوب کی رپورٹ کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ نامعلوم سمندری جانور کم از کم تین دن پہلے مرگیا تھا جس کے بعد وہ بہہ کر جزیرے پر پہنچا جبکہ جسم سے خارج ہونے والے خون نے ارگرد کا سمندر سرخ کردیا۔

Image may contain: sky, outdoor, nature and water

وہاں موجود سیاح اس جانور کو دیکھنے کے لیے ساحل پر پہنچے جبکہ پولیس نے علاقہ بند کرنے کی کوشش کی۔

انڈونیشن حکام کے مطابق یہ ڈھانچہ ممکنہ طور پر کسی ہمپ بیک وہیل مچھلی کا ہوسکتا ہے مگر دیگر افراد کا دعویٰ تھا کہ یہ کسی عظیم الجثہ سکویڈ جیسی مخلوق ہے۔

Image may contain: 1 person, outdoor and nature

جزیرے کے رہائشیوں نے انڈونیشین حکومت سے اس مخلوق کے مردہ جسم کو اٹھانے اور اس کی شناخت کے لیے مدد طلب کی۔

اس دریافت نے دنیا بھر میں سمندری حیات کے ماہرین کو الجھن میں دال دیا۔

Image may contain: outdoor, nature and water

مختلف ماہرین کا کہنا تھا کہ اس مخلوق کے سر کو دیکھنے سے لگتا ہے کہ یہ کسی بڑی ڈولن جیسا ہے جبکہ جلد سے کچھ محسوس ہوتا ہے، مگر جو بھی ہے یہ کوئی نایاب نسل کی مخلوق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لیکن ہم ہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ کسی قسم کی ڈولفن مچھلی ہے مگر اس کی جلد بہت مختلف ہے کیونکہ ڈولفن مچھلیوں میں اس طرح Fur نہیں ہوتی۔

بشکریہ ڈان نیوز